بھارت کی طرف سے پاکستان کے معاملات میں دخل اندازی قابل مذمت ہے ،ہم دشمن پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی جغرافیائی اور نظریاتی حدود کی حفاظت کرنا جانتے ہیں، ملک کی سلامتی ترقی امن وخوشحالی کے لیے جمعیت علماءاسلام کی تحریک دشمن کی بزدلانہ کارروائیوں سے رکنے والی نہیں ہم اپنے مشن کی بھر پور طریقے سے جاری رکھیں گے،سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین مولاناعبدالغفور حیدری کی کوئٹہ میں پریس کانفرنس

37

 


کوئٹہ۔18مئی(اے پی پی)سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین مولاناعبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے معاملات میں دخل اندازی قابل مذمت ہے ،ہم دشمن پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی جغرافیائی اور نظریاتی حدود کی حفاظت کرنا جانتے ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اسلام آباد روانگی سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پرجمعیت علماءاسلام بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا فیض اللہ ،صوبائی جنرل سیکرٹری ملک سکندر خان ایڈوکیٹ،عزیزاللہ پکتوی اور دیگر بھی موجود تھے۔سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ بھارتی جاسوسی کا پاکستان سے گرفتاری اور بھارت کی طرف سے ریشہ دانیاں قابل تشویش ہےں لیکن پاکستان ایک ناقابل تسخیر ایٹمی قوت ہے ہم سرزمین کی حفاظت کے لیے بڑی قربانیاں دینا جانتے ہیں ایک سوال کے جواب میں سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ جمعیت علماءاسلام دہشتگردی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے تفشیشی ادارے سانحہ مستونگ کی تحقیقات کررہے ہیں ملک کی سلامتی ترقی امن وخوشحالی کے لیے جمعیت علماءاسلام کی تحریک دشمن کی بزدلانہ کارروائیوں سے رکنے والی نہیں ہم اپنے مشن کی بھر پور طریقے سے جاری رکھیں گے ،ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ مجھ پر حملہ پہلا نہیں تھا 2014میں ہمارے قائد مولانا فضل الرحمن پر خودکش حملہ کیا گیا ہم نے 7،8اور 9اپریل کو پشاور میں کامیاب عالمی اجتماع کرکے 50لاکھ افراد کو جس احسن طریقے سے سنبھالا آکر ہمیں ملکی اقتدار ملے تو ہم پاکستان میں امن وامان برقرار رکھنے میں کامیاب ہونگے،انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا میں پوری قوم اور ملی اور بین الاقوامی شخصیات کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے خود آکر یا بذریعہ ٹیلی فون میر خیریت دریافت کی،مجھے شہید ساتھیوں کا دکھ ہے شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔