سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے صعنت و پیدا وار کا اجلاس

33

 


اسلام آباد, مئی ١٨ (اے پی پی) :سینیٹ قائمہ کمیٹی صنعت و پیدا وار کے چیئرمین سینیٹر ہدایت اللہ نے پاسڈیک کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاسڈیک کی کارکردگی قابل ستائش نہیں ۔ماربل کی کانوں میں میکنائیزڈ مشنری کے ذریعے قیمتی پتھروں کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ہدایات دی گئیں عمل نہیں کیا جارہا۔ لیز رکھنے والے وہ مالکان جو پتھروں کی کانوں میں کام کررہے ہیں۔ صرف ا ن کو ہی مشنری دینے کے لیے کہا گیا تھا ۔ لیکن بعض ایسے افراد کو بھی مشنری فراہم کی گئی جن کے پاس لیز نہیں۔ فاٹا میں دو ایسی کمپنیاں مشنری استعمال کررہی ہیں جن کے پاس لیز نہیں ۔ اگر کمپنیاں بھاگ گئیں تو وصولیاں کیسے کی جائیں گے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ میں نے خودقیمتی پتھروں کی 15کانو ں کا دورہ کیا ۔ حالات ٹھیک نہیں۔15میں سے 10بند فیکٹریاں بند پڑی ہیں ۔ کمیٹی کو تحریری طو ر پر وجوہات سے آگاہ کیا جائے جن 15 فیکٹریوں کو ادائیگی کیلئے منتخب کیا گیا اس کی وجوہات سے بھی آگاہ کریں ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ پاسڈیک توجہ دے۔ پاسڈیک حکام نے بتایا کہ 15 میں سے پانچ فیکٹریوں سے پیدوا حاصل کی جارہی ہے بلوچستان میں دلبدین اور چاغی میں بھی مائینگ کر رہے ہیں ۔ مشینری کی تعداد بڑھائی ہے چھ مائنز پر 27 مشینیں کام کررہی ہیں فاٹا میں بھی چار مائنز پر 30 مشینیں کام کر رہی ہیں بلوچستان میں کام کرنے والوں کو مشینری فراہم کی گئی ہے ۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ مشینری کی مرمت کیلئے کیا انتظامات کیے جاتے ہیں جس پر بتایا گیا کہ مشینری کے آپریٹر ہمارے ہیں اور انجن کی مرمت بھی کر کے دیتے ہیں ۔سینیٹر تاج حیدر نے سوال اٹھایا کہ سرمایہ کاری محکمے کی ہے منافع میں بھی حصہ داری ہونی چاہیے ۔پاسڈیک حکام نے بتایا کہ سرمایہ کاری بورڈ کو ماربل اینڈ گرینائیٹ کو بھی پاک چین اقتصادی راہداری میں شامل کرنے کیلئے خط لکھا ہے اور بورڈ کے ساتھ باقاعدہ اجلاس بھی جاری ہیں ۔ رسالپور ماربل سٹی میں بجلی فراہمی کا بندوبست نہیں کیا جاسکا ۔ ڈرینج کا نظام ناکارہ ہے ۔ فیکٹریاں چلانے کے خواہشمند مالکا ن کے مسائل حل کیے جائیں۔ پاسڈیک کے چیئرمین اراکین کمیٹی کے سوالات کا جواب نہ دے سکے۔ سربراہ نے تسلیم کیا کہ فاٹا میں پاسڈیک کا نمائندہ گھر میں بیٹھ کر کام کرتا ہے ۔ اس کے پاس دفتر نہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت حکام اور پاسڈیک سربرا ہ گھر سے بیٹھ کر ہی کام چلا لیا کریں ۔ قیمتی پتھروں کی بلوچستان ، خیبر پختونخوا اور فاٹا میں کُل کانوں میں سے کام کرنے والی اور میکنائزڈ مشنری کے تحت چلنے والی کانوں کے بارے میں چیئرمین کمیٹی نے دی گئی تفصیلات پر کہا کہ کمیٹی کو گمراہ نہ کریں۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ جو سوالات کیے جارہے ہیں جواب نہیں ملے۔ جہاں سے قیمتی پتھر نکل رہا ہے وہاں سہولیات بڑھائی جائے۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ ماربل کی صنعت کی مالی مدد کے لیے سرکاری اور نجی بنکوں کو خصوصی شعبہ قائم کرنا چاہیے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ فاٹا میں روزگار میں اضافے سے زرمبادلہ کمانے اور کاروبار میں اضافے کیلئے قیمتی پتھروں کی صنعت کو ترقی کیلئے توجہ دی جائے ۔ پیسڈ ک بنانے کے مقاصد کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں خصوصی توجہ دی جائے تو شہریوں کی زندگی بدلے گی اور معاشی خوشحالی بھی آئے گی ۔ سینیٹر خانزادہ خان نے کہا کہ میکنائیز سسٹم کے ذریعے پیدا وار اور مشینری کی عمر سے آگاہ کیا جائے جس پر بتایا گیا کہ قیمتی پتھر ضائع ہونے میں کمی ہوتی ہے ۔ چھ سے سات کروڑ کے اخراجات سے بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں ۔ ماربل سٹی رسالپورمیں سہولیات فراہمی میں تاخیر کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ڈیڑھ سال سے بجلی کی فراہمی کیلئے کہا جارہا ہے ۔ جلد عمل کریں پیسکو کے جنرل منیجر نے کہا کہ ریلوے لائن کراسنگ کیلئے 17 لاکھ جمع کرایا جائے فوجی حکام اور ریلوے سے این او سی کی ضرورت ہے پاسڈیک چیئرمین نے کہا کہ ہم نے پیسکو کو دو میگاواٹ کی ادائیگی کر دی ہے ۔ ریلوے کو ادائیگی کیلئے بھی ہم تیار ہیں ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ کیا ہم اس کا یہ نچوڑ نکالیں کہ 17 لاکھ روپے کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے سینیٹر تاج حیدر نے پیشکش کی کہ پیسکو بجلی فراہم کرے ادائیگی ہم کروا دیں گے ۔جس پر پاسڈیک حکام نے یقین دلایا کیا ادائیگی کر دیں گے پیسکو جی ایم نے کہا کہ 15 جون تک کنکشن دینے کیلئے تیار ہیں این پی او کی طرف سے کچن گاڑدن ٹریننگ کیلئے بیرون ملک بجھوائے گئے افراد کی تفصیل میں بتایا گیا کہ وفاق سے 42 ، پنجاب سے 26 ، سندھ سے7 ، خیبر پختونخواہ سے 10 اور بلوچستان سے ایک کو بجھوا یا گیا ۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ صوبہ بلوچستان سے ایک بجھوا یا گیا نمائندہ بھی سفارشی تھا ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ فاٹا سے ایک بھی نمائندگی نہیں لگتا ہے فاٹا پاکستان میں نہیں ۔ آئندہ اجلاس میں این پی او حکام سے مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ محکمہ دھماکہ خیز مواد کے حکام سے محکمہ کی کارکردگی قواعد وضوابط کے بارے میں بریفنگ لی گئی ۔2015-16 میں 1100 سے زائد دھماکہ خیز مواد کے لائسنس دیئے گئے نئے پیڑول پمپس کو لائسنس دینے کے حوالے سے حکام کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک بھر کے پیڑول پمپس کو چیک کرنے کیلئے صرف چھ اہلکار ہیں ۔ محدود وسائل میں کام کر رہے ہیں ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ چیکنگ کا نظام کمزور ہے اہلکاروں کی تعداد میں اضافے کیلئے کمیٹی سفارش کرے گی ۔
اجلاس میں سینیٹرز کلثوم پروین ، خالدہ پروین ، ملک نجم الحسن ، تاج حیدر، خانزادہ خان کے علاوہ پیسڈک کے سربراہ وزارت کے حکام نے شرکت کی.
اے پی پی/ سہیل

وی این ایس اسلام آباد