پاک فضائیہ نا صر ف ہر چیلنج کو قبول کرتی ہے بلکہ پیشہ وارانہ مہارت سے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچاتی ہے:ائیرچیف

83

اسلام آباد 17 جون (اے پی پی): آج ائیروار کالج میں 30 ویں ائیر وار کورس کی کانووکیشن کی تقریب منعقد ہوئی۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان نے اس تقریب کی صدرات کی۔

ائیر چیف نے گریجویٹ ہونے والے افسران کو کورس کی کامیاب تکمیل پرمبارک باد دی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ائیر وار کالج سے حاصل کردہ علم اور مہارت شرکاء کی قومی سلامتی سے متعلق مطلوبہ ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہونگی ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ،کہ پاک فضائیہ نہ صر ف ہر چیلنج کو قبول کرتی ہے بلکہ پیشہ وارانہ مہارت سے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچاتی ہے۔ بلاشبہ بہترین تربیت سے یہ اعلٰی معیارحاصل کیا جا سکتا ہے اور ہمارے تربیتی ادارے اس میدان میں بہترین کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سینئر فوجی عہدیدار ہونے کے ناطے آپ کو عصر حاضر کے جغرافیائی سیا سی اور سٹریٹیجک ماحول سے مکمل آ گاہی ہونی چاہیے ۔ جس سے ملکی سلامتی کو درپیش موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نبرد آزما ہونے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ یقینًا مسلح افواج کے درمیان باہمی تعاون اور ہم آہنگی موجود ہے۔ باہمی روابط جدید جنگی حکمت عملی کا مرکزی حصہ ہیں اور ہم نے اس تعاون کی بدولت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ کالج ان گریجویٹ ہونے والے افسران میں ڈاکٹرائن اور ائیرپاور کے جدید رحجانات کی آگاہی فراہم کرتا ہے تاکہ عصر حاضر کے چیلنجز کا مکمل اعتماد کے ساتھ سامنا کیا جا سکے۔

اس سے پہلے ائیر وائس مارشل پیرزادہ کمال الدین احمد صدیقی ، کمانڈنٹ ائیر وار کالج نے کورس رپورٹ پیش کی۔پاک فضائیہ کے افسران کے علاوہ پاک آرمی، پاک نیوی اور دیگر 12 ممالک جن میں بنگلہ دیش ، چین، مصر، انڈونیشیا ، ایران ، اردن ملائیشیا ، سعودی عرب ، اومان ، جنوبی افریقہ، سری لنکا اور زمبابوے کے افسران بھی گریجویٹ ہوئے۔ اس تقریب میں کئی سول اور فوجی اعلٰی عہدیداران اور مختلف ممالک کے ڈپلومیٹس نے شرکت کی۔

ائیر وار کالج پاک فضائیہ کا ایک معتبر ادارہ ہے جہاں پاکستان کی مسلح افواج اور دوست ممالک کے افسران کو اعلٰی ذمہ داریوں کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔اے پی پی حمزہ