افواجِ پاکستان کا خیبر ایجینسی میں بڑا آپریشن “خیبر۔4” شروع۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس

66

راولپنڈی 16 جولائی (اے پی پی): پاک فوج نے آپریشن ردُالفساد کے تحت مُلک کے بیشتر علاقوں سے دہشت گردی کو ختم کر دیا ہے اور اب خیبر ایجینسی میں “خیبر۔4” کے نام سے بڑا ملٹری آپریشن شروع کر دیا ہے۔

 

یہ بات ڈی جی آئی ایس پی آر، میجر جنرل آصف غفور نے آج آئی ایس پی آر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں بتائی۔

 

انہوں نے بتایا کہ “خیبر۔4” آپریشن ردالفساد کا حصہ ہے جس کا مقصد سرحد پار موجود داعش کو پاکستانی علاقوں میں کاروائیوں سے روکنا ھے۔ خیبر۔4 انتہائی دشوار گزار، سنگلاخ اور اونچی پہاڑیوں پر مشتمل علاقوں میں کیا جارہا ہے جس میں پاکستان ائیر فورس بھی حصہ لے گی۔ جنرل آصف غفور نے میڈیا نمائیندگان کو بتایا کہ انٹیلی جینس معلومات اور پارہ چنار آپریشن میں گرفتار کئے گئے دہشت گردوں کی نشاندہی بھی خیبر۔4 کے ٹارگٹ میں معاون ثابت ہوگی جس سے علاقے کو کلئیر کرایا جائیگا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ علاقے میں تقریباً 500 خاندان کی آبادی ہے جو کہ دہشت گردوں کی وجہ سے علاقے سیے منتقل ہوئی ہے۔

 

ڈی جی آئی ایس پی آر نے آپریشن ردالفساد کی تفصیلات بتاتے ہو کہا کہ اب تک اس آپریشن میں کُل 46 بڑے آپریشن کئے جاچُکے ہیں جن میں بلوچستان میں تیرہ، پنجاب میں چھ اور خیبرپختونخوا میں 27 آپریشن شامل ہیں۔ اسی طرح نو ہزار کے قریب آئی بی اوز (انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز) کئے جاچُکے ہیں۔ آپریشن ردُالفساد مجموعی طور پر خاصہ کامیابی سے جاری ہے اور بہت جلد کامیاب انجام کو پہنچنے والا ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے ساتھ مربوط نظام کے تحت آپریشن کئے جا رہے ہیں اور خیبر۔4 کے حوالے سے افغانستان کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ البتہ یہاں یہ بات اہم ہے کہ پاک افغان فوجیں مِل کر جوائنٹ آپریشن نہیں کر رہیں بلکہ پاکستان کی مسلح افواج اپنے علاقے میں خود آپریشن کرتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے میڈیا کو ایک اور اہم بات یہ بتائی کہ ملٹری کورٹ سے اب تک 274 مقدمات میں سے 165 مقدمات سزاۓ موت سے متعلقہ تھے جن میں سے 53 پر عملدرآمد ہو چُکا ہے۔ پارہ چنار سے گرفتار 17 دہشتگردوں کا مقدمہ بھی ملٹری کورٹ میں چل رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھارتی جاسوس کلبھو شن نے آرمی چیف سے رحم کی اپیل کی ہے جس کا آرمی چیف جائزہ لی رہے ہیں اور اِسکا میرٹ پر فیصلہ کریں گے۔

 

لائین آف کنٹرول کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جب بھی تحریک آزادی کشمیر زور پکڑتی ہے، بھارت ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزی شروع کر دیتا ہے۔ گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں بھارت نے ایک ہزار پانچ سو پچیس مرتبہ لائین آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوۓ پاکستان کی سویلین آبادی کو نشانہ بنایا جبکہ صرف اس سال جُون تک 580 مرتبہ بھارت کی جانب سےلائین آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی گئی۔

 

میڈیا کے مُختلف سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاک فوج مُلک میں مکمل استحکام اور امن کے قیام کے کئے اپنا فرض پورا کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کی پاسدار ہر ایک پر فرض ہے۔ اے ہی ہی حمزہ۔