ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان

79

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان ریاستی ادارہ ہے جس نے کام کا آغاز 1947 میں کیا۔ ابتدا میں اس کا انتظام ایک ٹرسٹ کی ذمہ داری تھابعد ازاںحکومت نے ایک آرڈینس کے تحت 15 جون 1961 کو اسے سرکاری تحویل میں لے لیا۔حکومتی تحویل میںآنے کے بعداس نے باقاعدہ قومی ادارے کی شکل اختیا کر لی ۔
ادارہ مینجگ ڈائریکٹر کی زیر نگرانی کام کرتا ہے جبکہ بورڈ آف ڈائریکٹرزادارے کے دیگر انتظامات کو دیکھتے ہیں۔ بورڈ کا چیرمئین وفاقی سیکرٹری اطلات و نشریات کا ہوتا ہے ۔ادارے کی دیگر انتطامیہ میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ڈائریکٹر نیوز، ڈائریکٹر آئی ٹی،ڈائریکٹر کوارڈینشن، بیوروچیفس اور اسٹیشن مینجرز شامل ہیں۔
اے پی پی کا ہیڈ آفس اسلام آباد میں ہے اور مختلف شہروں میں 6 بیورو آفسز اور 11 اسٹیشن موجود ہیں۔ ضلع اور تحصیل کی سطح پر بھی نمائندگان تعینات ہیں۔نیو یارک، واشنگٹن، لندن،نیو دہلی اور ڈھاکہ سمیت کئی ملکوں میں بھی اے پی پی کے خصو صی نامہ نگار مقرر کیے گئے ہیں۔
آغاز میں ٹائپ رائٹر اور ٹیلی پرنٹر سے کام چلایا جاتا تھا۔ ٹیکنالوجی میں جدت آنے کے بعد ٹائپ رائٹرز کی جگہ کمپیوٹرز نے لے لی اور اے پی پی کو وسیع ترین نیٹ ورکنگ سے منسلک کر دیا گیا۔ الیکڑانک میڈیا کے وسیع ترین نیٹ ورک کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ادارے نے ویڈیو نیوز سروس کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا اور اب ڈی ایس این جی اور جدید سٹوڈیو کے ذریعے خبریں اور پروگرام تیار اور نشر کیے جاتے ہیں۔دور حاضر میں انٹرنیٹ سے عوام کی وابستگی کو ددیکھتے ہوئے سوشل میڈیا ونگ اور موبائل ایپ بھی متعارف کروائی گئی ہے۔
اے پی پی اس وقت قومی اور بین الاقوامی اخبارات کو روزانہ ایک ہزار خبریں۔120 تصاویر اور ٹی وی چینلز کو بہتریں معیار کی فوٹیج فراہم کر رہا ہے۔
ملکی اورغیر ملکی سطح پر اے پی پی اپنے صارفین کو مختلف قسم کی سروسز فراہم کر رہی ہے جن میں نیوز سروس، فارن نیوز، کمرشل سروس، فوٹو سروس، قومی اور علاقائی زبانوں میں اطلاعات کی فراہمی کی سروس فیچر سروس اور ویڈیو نیوز سروس شامل ہیں۔
اے پی پی میں قائم مانیٹرنگ کا شعبہ نیشنل اور انٹرنیشنل نیوز چینلز اخبارات اورمیگزینز کی مانیٹرنگ کر کے خبریں جاری کرتا ہے۔
اے پی پی کے ذریعے خبریں، تصاویر اور ویڈیوز ایک منظم انداز میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا تک پہنچائی جاتی ہیں۔ اے پی پی کی خبریں انگریزی، اردو، عربی ،اور علاقائی زبانوں بلوچی، سندھی، پشتو، اور سرائیکی میں جاری کی جاتی ہیں۔
اے پی پی کا ادارتی عملہ پوری تحقیق کے بعد خبر جاری کرتا ہے۔ خبروں کے اجرا میں صحافتی ظابطہ اخلاق اور بنیادی اصولوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اے پی پی نے ہمیشہ غیر جانبدارنہ، معیاری اور غیر متعصب رپورٹنگ کے فروغ کو اپنا مقصد سمجھا ۔
اے پی پی وقت کے بدلتے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے جب کہ خبروں کی بر وقت ترسیل کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے بھر پور استفادہ کیا جا رہا ہے۔