سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس

36

اسلام آباد، 12 اکتو­بر(ا پ پ):سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ بجلی چوری ، ترسیلی نقصانات اور بلوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ملک کو سالانہ 125 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے، سب سے زیادہ عدم ادائیگی اور بجلی چوری 38 فیصد سیپکو(سکھر) میں ہورہی ہے جب تک گرڈ اسٹیشن اور ٹرانسمشن لائنوں کو بہتر نہیں کیا جائے گالوڈشیڈنگ کے مسائل رہیں گے۔ ملک کے گرڈ اسٹیشن 40 فیصد ، فیڈرز 20 سے25 فیصداوور لوڈہیں ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 29 ہزار میگاواٹ موجو دہے جبکہ ناقص ٹرانسمشن لائنوں ،گرڈاسٹیشن­وں و دیگر انفراسٹرکچرکی وجہ سے ملک کی مو­جودہ ضرورت 19 ہزار میگاواٹ ہونے کے باوجود بھی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔
قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود کی صدارت میں جمعرات کوپارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں نیپرا کے کام کے طریقہ کار ، بجلی کی پیداوار و شارٹ فال ، مختلف سیکٹروں کو بجلی کی سپلائی سے متعلق حکومتی پالیسی اور پبلک سروس کمیشن میں معذور افراد کیلئے کوٹے کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
چیر مین نیپرا طارق سدوزئی نے قائمہ کمیٹی کو نیپرا کے قیام اور اس کے اغراض ومقاصدبارے تفصیلی بریفنگ دی۔۔ جس پر چیئرمین و اراکین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے والے افسران کو بھی سزا دی جائے نہ کہ صرف کمپنیوں کو جرمانے کیے جائیں۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک میں دس بجلی پیدا وتقسیم کار کمپنیاں خدمات سرانجام دے رہی ہیں ،24 ملین بجلی صارفین ہیں جس میں85 فیصد صارفین گھریلو ہیں جو 50 فیصد بج­لی استعمال کرتے ہیں ، 11 فیصد کمرشل ،28 فیصد صنعت اور زراعت میں ایک فیصد بجلی استعمال ہوتی ہے۔ ہر تقسیم کار کمپنی کا ٹیرف علیحدہ نکالا جاتا ہے حکومت سبسڈی یا سرچارج لگاتی ہے۔ 201­4-15 میں پورے ملک کیلئے ٹیرف 12.33 مقرر کیا گیا ، حکومت نے سبسڈی فراہم کر کے 11.­45 روپے نوٹیفکیشن کیا، کم یونٹ استعمال کرنے والوں کو سبسڈ ی ملتی 70 فیصد لوگ بجلی کے300 سے کم یونٹ استعمال کرتے ہیں۔ صنعت میں استعمال ہونے والی بجلی میں سرچارج وصول کیا جاتا ہے۔ ریگولیٹر ایک حد تک لائن لاسسز کی اجازت دیتا ہے۔ اس سے زیادہ بجلی چوری میں شمار ہوتی ہے۔ آئیسکو میں8.6 فیصد لائن لاسسز کی اجازت ہے مگر 9.1 فیصد لائن لاسز ہو رہے ہیں۔ ہیسکو 22.5 فیصد جبکہ 26 فیصد لائن لاسز ہو رہے ہیں۔ پیسکو 31 فیصد جبکہ 33 فیصد لائن لاسسز ، میپکو 15 فیصد مگر16­.45 ، کوئٹہ 17.5 فیصد جبکہ23.9 فیصد لائن لاسز ہورہے ہیں اور سب سے زیادہ سیپکو 29 فیصد اجازت ہے جو حقیقت میں38 فیصد لائن لاسز سامنے آرہے ہیں۔
اراکین کمیٹی نے کہا کہ 29 فیصد لائن لاسز بھی بہت زیادہ ہیں جس پر بتایا گیا کہ حالات کے پیش نظر اتنی اجازت دی گئی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں پانچ نئے گرڈ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے این ٹی ڈی سی پر پچھلے تین سالوں سے زور دیا جارہا ہے ، جب تک گرڈ اسٹیشن اور ٹرانسمیشن لائن کو بہتر نہیں کیا جائے گا لوڈ شیڈنگ کے مسائل رہیں گے البتہ حکومت اس حوالے سے اقدامات اٹھا رہی ہے۔
اجلاس میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ ملک میں کئی مقامات پر فکس بل بھی وصول کیے جارہے ہیں ایک اے سی استعمال کرنے پر ماہانہ دو ہزار وصو ل کیے جاتے ہیں۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں ٹرانسمشن لائنز کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو بھی طلب کر لیا۔
اجلاس میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے حوالے سے معذور افراد کیلئے 2 فیصد کوٹہ کیلئے عوامی عرضداشت کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا سیکرٹری ایف پی ایس سی نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک فیصد پہلے سے مقرر ہے گریڈ1 سے15 تک حکومت نے یہ کوٹہ 2 فیصد کر دیا ہے گریڈ 16 سے اوپر تقرری میرٹ پر کی جاتی ہے ، معذور افراد میرٹ پر کہیں بھی تقرر ہو سکتا ہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ معذور افراد خصوصی توجہ کے حقدار ہوتے ، کوئی ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے اور تجاویز لائی جائیں کہ ان کی زیادہ سے حوصلہ افزائی کی جا سکے یا اضافی نمبر دیئے جا سکے تاکہ وہ بھی معاشرے کے عام فرد کی طرح بہتر زندگی گزار سکے۔ کمیٹی نے اس حوالے سے ایف پی ایس سی سے تجاویز طلب کر لیں۔ کمیٹی نے اسلام آباد میں ہاو¿سنگ سوسائٹیوں ، سی ڈی اے کی طرف سے الاٹ کیے گئے پلاٹوں، دو سے زیادہ بیسمنٹ بنانے کی اجازت دینے اور پلاٹوں کیلئے ڈویلپمنٹ اخراجات کے حوالے سے شکایات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئندہ اجلاس میں آئی جی اسلام آباد، چیئرمین سی ڈی اے ، اسلام آباد انتظامیہ کو طلب کرتے ہوئے سی ڈی اے سے پلاٹوں کیلئے ڈویلپمنٹ اخراجات کا دس سالہ ریکارڈ، نیلام کیے گئے پلاٹوں کی ڈویلپمنٹ، دو سے زیادہ بیسمنٹ بنانے والی عمارتوں کی تفصیلات ، عمارتوں کیلئے پاس ہونے والے نقشے کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سی ڈی اے سے عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے تجاویز بھی طلب کر لیں۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پاکستان کا دارالحکومت دنیا کے خوبصورت دارالحکومتوں میں سے ایک ہے مگر اس کی خوبصورتی کو ناقص منصوبہ بندی و حکمت عملی کی بدولت تباہ کیا جارہا ہے جعلی ہاو¿سنگ سوسائٹیوں ، غیر قانونی تعمیر ات نے خوبصورتی تباہ کر دی ہے۔ سی ڈی اے کے عملہ کی ناقص منصوبہ بندی کی بدولت سیکٹر ڈی 12 اب تک تعمیر نہ ہو سکا او رمارگلہ روڈ جس کی وجہ سے ایکسپریس ہائی وے کا آدھا رش کم ہو سکتا ہے ناقص منصوبہ بندی کی نظر ہوگیا قائمہ کمیٹی نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پرائیوٹ ایئر لائن کے جہاز منگوائے مگر معائنہ کرنے والے ماہر­ین نہ ہونے کی وجہ سے اپنی پسند کے افسران کو ان کی فیملیوں کے ساتھ بیرون ملک ٹریننگ کیلئے بھیجا ، ٹی اے ڈی اے کی مد میں اربوں روپے خر چ کیے۔ کمیٹی نے اس حوالے سے سول ایوی ایشن سے تفصیلات بھی طلب کر لیں۔
اجلاس میں سینیٹرز شاہی سید ، نجمہ حمید اور حاجی سیف اللہ خان بنگش کے علاوہ چیئرمین نیپرا ، ایڈیشنل سیکرٹری کیڈ ، سیکرٹری ایف پی ایس سی و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اے پی پی /سحر ا ن م