پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس

20

پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس سید خورشید احمد شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔

منسٹری آف انرجی کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ۔

نیسپاک میں جعلی ڈگری ہولڈرز کی بھرتیوں کے معاملے پر چئیرمین  کمیٹی سید خورشید احمد شاہ  نے معاملے پر بحث نہیں کی کہ معاملہ کورٹ میں ہے لہذا اس پر بحث نہیں کی جا سکتی۔

نیسپاک آفیسرز نے کمیٹی کو بتایا کہ  16 لوگ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوئے تھے 10 کو فارغ کر دیا گیا باقی 6 کے خلاف انکوائری چل رہی ہے

کمیٹی نے   معاملہ مو خر کر دیا۔

جعلی ڈگری ہولڈرز کی مد میں  نیسپاک کو  947۔110 ملین روپے کا نقصان ہوا۔

آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ چیف انجنیئر رولر الیکٹری فیکیشن پیپکو کو 30۔3101 ملین روپے حکومت پاکستان سے لئے۔

یہ پیسے ڈیسکوز کو 3535   الیکٹری فیکیشن اسکیمز کے تحت تقسیم ہوئے تھے  ۔

یہ پیسے پاک میلینئیم  ڈویلپمنٹ گول پروگرام کے تحت ملے تھے ۔

اس میں سے صرف 1091 اسکیمز جن کی مالیت 80۔2090 ملین روپے تھی مکمل ہو سکی سال 2015-16 تک ۔

88۔1010 ملین روپے تاحال استعمال نہیں ہو سکے جو کہ پبلک فنڈز کی بلاکج ہے ۔

نیب نے پی اے سی کو نندی پور پاور پراجیکٹ کے حوالے سے رپورٹ جمع کروا دی۔

22ارب سے اس کی لاگت 66 ارب تک کیسے پہنچی۔ چئیرمین کمیٹی سید خورشید احمد شاہ نے استسفار کیا۔

 

2006 سے یہ پراجیکٹ تھا ۔ اس میں غفلت کس کی تھی ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔ ممبر کمیٹی اعظم سواتی

یہ پاور پراجیکٹ اب مکمل کام کر رہا ہے اس کی پاور جنریشن کپیسٹی اس وقت 500 میگا واٹ ہے۔

رینٹل پاور پراجیکٹ کا کیس پی اے سی میں لایا جائے ۔ خورشید احمد

سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ 72 بلین کا نقصان کیسے ہوا ۔ کون ذمہ دار ہے ۔ کس کی نا اہلی ہے اس حوالے سے پتا چلنا چاہئے ۔

 

اے پی پی /صائمہ/فرح