صادق الرحمان کو ہزاروں اشکبار آنکھوں کے سامنے سپرد خاک کیا گیا۔ چترال(گل حماد فاروقی) گاﺅں شاہ میراندہ (سینگور) سے تعلق رکھنے والے صادق الرحمان ولد قاضی الرحمان جو انسداد منشیات فورس یعنی Anti Narcotics Force ہیڈ کوارٹرز

195

 

 

 

اسلام آباد میں اکاﺅنٹنٹ تھے وہ جمعہ کے روز سہ پہر کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال

کرگئے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں ہفتے کے روز اس کا پوسٹ مارٹم ہونے کے بعداس کی جسد خاکی کو ایمبولنس میں چترال روانہ کیا گیا تاہم ہفتے کے روز دروش کے مقام پر بارش کے بعد ندی نالیوں میں طغیانی آئی جس کے باعث چترال سے پشاور جانے والا مین شاہراہ ہر قسم ٹریفک کیلئے بند ہوا۔
ہمارے نمائندے نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے جنرل منیجر کرنل ریٹائرڈ جنجوعہ کو فون پر بتاکر راستہ کھولنے کی درخواست کی جنہوںنے نثار خٹک ڈایریکٹر کا نمبر دیا ان سے رابطہ کرکے راستہ کھولنے کے کہا جس کے کہنے پر انور خٹک نے رابطہ کرکے راستہ کھولنے کی یقین دہانی کرائی مگر راستہ نہ کھل سکا ۔ جس پر ایس ایچ او تھانہ دروش بلبل حسن نے پولیس کے جوان اور مقامی لوگوں کو لیکر لاش کو کندھوں پر اٹھاکر سیلاب والے جگہہ سے پیدل گزرے اور دروش میں دوسرے ایمبولنس میں ڈال کر چترال روانہ کیا۔ صادق الرحمان کی جسد خاکی رات بارہ بجے کے بعد ان کے گھر پہنچ گئی تو گھر میں کہرام مچ گیا ان کے بوڑھے والدین اور بہن بھائی دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ تاہم رات دیر ہونے کی وجہ نمازہ نہ ہوسکا کیونکہ زیادہ تر عزیز رشتہ دار اپنے گھروں چلے گئے تھے۔
اتوار کے دن صادق الرحمان کا نماز جنازہ سینگور کے جنازہ گاہ میں ادا کی گئی اور اسے شاہ میراندہ کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ صادق الرحمان ٹیکسی ڈرائیور ریاض الرحمان، آیاز الرحمان کے بھائی تھے ۔ ان کے پسماندگان میں ان کے بیوہ اور تین بیٹے رہ گئے۔