پاکستانی خاتون کوہ پیما عظمیٰ یوسف 8 ہزار بلند براڈ پیک کو عبور کرنے کی مہم 17 جون سے شروع کریں گی

اسلام آباد، 8 جون(اے پی پی ):  پاکستانی خاتون کوہ پیما عظمیٰ یوسف  8ہزار  میٹر بلند براڈ پیک  کو عبور کرنے کی مہم کا آغاز عیدالفطر کے بعد 17 جون کو کرے گی،براڈ پیک دنیا کی 12 ویں بلند ترین چوٹی ہےاور اس چوٹی کو عبوری کرنےمیں 42 سے 45 روز لگ سکتے ہیں اور اس پر 35 لاکھ روپے خرچ ہونگے،  عظمیٰ یوسف اس سے قبل رش پیک اور7027 میٹر بلند سپینڈک پیک بھی سر چکی ہیں۔جمعہ کے روز عظمیٰ یوسف کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد ہوئی، اس موقع پر پاکستان میں اٹلی کی سفیر سٹیفانو پونٹیکوروو، الپائن کلب کے صدر ابو ظفر صادق،کوہ پیما کرنل عبدالجبار بھٹی بھی موجود تھے کی۔    مشتاق خان ایم ڈی پی ٹی ڈی سی خیبر پختونخوا کے ایم ڈی مشتاق خان نے کہاکہ عظمیٰ کا کسی بڑی چوٹی کو عبور کرنے کے لئے جانا اور ملک پاکستان کے لئے بڑے فخر کی بات ہے ایسا اعزاز انکو دوسری بار مل رہا ہے۔اس طرح کی مہم  پاکستان کا اچھا تاثر  دنیا میں پھیلاتی ہے ٹورزم کے فروغ کے لئے جو بھی ہوا ہم کرنے کے لئے تیار ہیں۔انہوں نےکہا کہ ملک میں کافی ایسی چوٹیاں ہیں جنکو ابھی تک کسی نےعبور نہیں کیااورخیبر پختونخوا  پی ٹی ڈی سی کوہ پیماؤں کی پوری طرح تعاون اور مدد کریں گی اس سلسلہ میں  پی پی ٹی ڈی سی نوجوان کو خوش آمدید کہے گی۔ کوہ پیما کرنل عبدالجبار بھٹی نے کہا کہ

ایڈونچر سپورٹس بہت رسکی ہوتی ہیں۔ایسی سپورٹس میں نا صرف پیسہ بلکہ ہمت، تجربہ، ریسرچ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے واقف ہونا ضروری ہے
عظمیٰ یوسف کے بارے میں انہوں نےکہا کہ عظمیٰ کو چوٹی عبور کرنے کے بعد انکی ہمت پر کافی حیرانی ہوئی۔انہوں نےکہا کہ عظمیٰ کی گذشتہ  ایکسپیڈیشنذز کو دیکھ کر لگتا ہے اور بہت ریکارڈ قائم کریں گے۔انہوں نےکہا کہ میری پہلی کوہ پیمائی براڈ پیک ہی تھی۔اور میری نیک تمنائیں عظمیٰ کے ساتھ ہیں۔ عظمیٰ یوسف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دوستوں  کے  حوصلے نے ماضی میں ہمت دلائی، اب بھی اس وجہ سے براڈ پیک کا چناؤ  کیا۔ گھریلو خواتین ہونے کے ناتے یہ کام  بہت زیادہ مشکل ہے۔
پہلے تربیت کے بغیر چوٹی عبور کی اور اب تربیت کے بعد فیصلہ کیا۔ انہوں نےکہا کہ ہر چوٹی کی ایک الگ کہانی ہوتی ہے اورکوئی چوٹی عبور کرنی  آسان نہیں ہوتی ،ایک جنون اور حوصلہ ہی اس مہم کو ممکن بنا سکتا ہے۔
موسم کا سازگار رہنا اس مہم کے ئے انتہائی ضروی ہے۔آپکی صحت اور خدا کی مرضی ہو تو یہ کام ممکن ہے۔اس نے کہا کہ اسکے بعد مزید آگے بڑھوں گی۔مردوں کے ساتھ کے بغیر یہ کام ممکن نہیں۔
عظمیٰ کے شوہر یوسف نے کہا کہ کبھی عظمیٰ کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا کہ وہ اتنا آگے چلی جائیں گی۔سپینٹک کی مہم کے دوران موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے عظمیٰ نے واپسی کا کہا لیکن انہوں نے ہمت نا ہاری، اٹلی کی سفیر سٹیفانو پونٹیکوروو نے کہا کہ جب عظمیٰ کی کہانی کا پتا چلا   تو کافی حیرانی ہوئی۔اوران سی مل کر پتا چلا خواتین مرودوں سے آگے ہیں۔ہر آدمی کو انکی حوصلہ آفزائی کرنی چاہیے۔مثال ہیں سب کے لئے، نا صرف مرودوں کے لئے،انہوں نےکہا کہ دنیا  کو ماڈلز کی ضرورت ہے اور آپ ان میں سے ایک۔ہیں۔
نا صرف پاکستان خواتین کے لئے بلکہ دنیا بھر کی خواتین کے لیے رول ماڈل ہیں۔انہوں نےکہا کہ  عظمیٰ کی مہم کے  آلات ہم فراہم کریں گے۔اس موقع پر  عظمیٰ یوسف کے پچوں نے انکے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
اے پی پی/ احسن