ایمنسٹی سکیم 2018ءکے تحت کیش‘ پرائز بانڈ‘ گاڑیاں‘مکان‘ غیر منقولہ جائیداد سمےت غیر ظاہر شدہ اثاثہ جات کو پانچ فیصد ٹیکس ادا کرکے ان کوقانونی حیثیت د ی جا سکتی ہے‘ سکیم سے فائدہ اٹھانے والوںکو نیب‘ ایف بی آر اور ایف آئی اے سے مکمل تحفظ ہوگا، کمشنر ان لےنڈ رےونےو عائشہ عمران بٹ کی پرےس کانفرنس

 

لاہور۔11 جولائی(اے پی پی )کمشنر ان لےنڈ رےونےو عائشہ عمران بٹ نے کہا ہے کہ ایمنسٹی سکیم 2018ءکے تحت کیش‘ پرائز بانڈ‘ گاڑیاں‘مکان‘ غیر منقولہ جائیداد سمےت غیر ظاہر شدہ اثاثہ جات کو پانچ فیصد ٹیکس ادا کرکے ان کوقانونی حیثیت د ی جا سکتی ہے‘ سکیم سے فائدہ اٹھانے والوںکو نیب‘ ایف بی آر اور ایف آئی اے سے مکمل تحفظ ہوگا، ٹیکس ایمنسٹی سکیم برائے سال 2015ءسے سات لاکھ لوگوں نے فائدہ اٹھایا تھا جبکہ اس سکیم کا ٹیکس ریٹ موجودہ سکیم سے بہت زیادہ تھا‘ اس سال حکومت نے ٹیکس ریٹ مزیدکم کرکے اس سکیم کوفعال کیاہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفیدہوسکیں‘ رےجنل ٹےکس آفس مےں پرےس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر ظاہر شدہ اثاثہ جات کو قانونی حیثیت د ینے کا ےہ سنہری موقع ہے،ےہ سکےم31جولائی تک محدود ہے،انہوں نے تفصےلات بتاتے ہوئے کہا کہ آئندہ شناختی کارڈ نمبر ہی نیشنل ٹیکس نمبر ہوگا‘ بارہ لاکھ روپے سالانہ آمدن (ایک لاکھ روپے ماہانہ) رکھنے والے افراد کوصرف 2000 روپے ٹیکس دینا پڑیگا‘ پہلے یہ حد چار لاکھ روپے سالانہ تھی‘ غیر ملکی زر مبادلہ واپسی پر 2 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا‘ملکی وغیر ملکی زر مبادلہ کے حامل افراد حکومت سے پانچ سالہ مدت کیلئے بانڈ خرید سکیں گے جس پر حکومت تین فیصد سالانہ منافع بھی دے گی‘ یہ بانڈ کم سے کم ایک سال کی مدت سے پہلے کیش نہیں کروائے جاسکتے‘یہ بانڈ جب کیش کروائے جائیں گے تو اس وقت انٹر بینک ریٹ کے مطابق پاکستانی روپے میں ادائیگی کی جائیگی‘ بیرون ملک چھپائے گئے اثاثوں کوبھی تین فیصد جرمانہ ادا کرکے قانونی کیا جاسکے گا‘ تاہم بیرون ملک بینک اکاﺅنٹس کو پانچ فیصد ٹیکس ادائیگی سے قانونی کیا جاسکے گا‘ تیس جون 2018ءسے پہلے کے تمام لوکل اثاثے‘ دھن وغیرہ بھی پانچ فیصد ٹیکس ادائیگی سے قانونی کیا جاسکے گا‘سکیم سے فائدہ اٹھانے والوںکو نیب‘ ایف بی آر اور ایف آئی اے سے مکمل تحفظ ہوگا‘ سیاستدان‘ بیوروکریٹ اور پبلک آفس ہولڈر یا ان کے بیوی بچے اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکیںگے۔