سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت اور پیداوار کا اجلاس 

6

اسلام آباد۔ 3 اکتوبر (اے پی پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت اور پیداوار کا اجلاس آج سینیٹر احمد خان کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میںوزارت صنعت اور پیداوار کے کام اور حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

 اجلاس میں سینیٹر نصیب اللہ بازی، سینیٹر ستارا ایاز، سینیٹر کلثوم پروین، سینیٹر انور لال دین ، سینیٹر کیشوبائی اور صنعت و پیداوار کی وزارت کے دیگر سینئر افسران شامل تھے..

سینیٹر کلثوم پروین نے اسٹیل ملز کی حالت کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کہا کہ حکومت کو اس انٹرپرائز کو دوبارہ بحال کرنے کے لئے اپنے تمام تر اختیارات کو بروئے کار لائے ۔ . چیئرمین کمیٹی سینیٹر احمد خان نے ہدایت کی کہ اسٹیل ملز پر ایک تفصیلی اجلاس منعقد کیا جانا چاہیے اور اسی طرح بہت سارے دیگر صنعتی شعبوں کے حوالے سے بھی انفرادی طور پر بات چیت کی جائے گی.

سینیٹر ستارا ایاز افراد کی تربیت کی ضرورت پر زور دیا. انہوں نے کہا کہ ملک میں ماہر مزدور کی کمی ہے اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر لیبر مارکیٹس تک پہنچ کے لئے سرکاری سطح پر افراد کی تربیت کرنا ضروری ہے. انہوں نے سمیڈا، ، ایک ہنر ایک نگر اور اس طرح کی دیگر اداروں کی بحالی کی بھی سفارش کی.

صنعت اور پیداوار، تجارت، ٹیکسٹائل انڈسٹری اور بی او آئی کے لیے وزیر اعظم مشیر عبدالرازق داو ¿د نے یہ خیال کیا کہ کسی بھی ملک کو آگے بڑھانے کے لئے برآمد ات کے شعبے کی ترقی ضروری ہے اس لیے ضروری ہے کہ برآمدی شعبے کو فروغ دیا جائے . انہوں نے مزید کہا کہ deindustrialrialization ایک بڑا مسئلہ ہے جس کا ملک کوآج سامنا ہے اور اس کے حل کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔

خام مال کے درآمد پر بڑھتی ہوئی ڈیوٹی ٹیرفز پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے، د عبدالرازق داو ¿د نے ڈیوٹی ٹیرف میں تیزی سے تبدیلیوں کو پاکستان میں صنعتوں کے لئے ایک اہم رکاوٹ قرار دیا. انہوں نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ ایک بار جب قومی ٹیرف پلان تیارہو جاتا ہے ہے تو کم سے کم 3 سال تک ڈیوٹی کی ساخت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی. انہوں نے مزید کہا کہ آگے بڑھنے کے لئے ایک برآمد کردہ صنعتی حکمت عملی اپنانا ہو گی .

اے پی پی وی این ایس اسلام آ باد / سعیدہ/ریحانہ