سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مسائل کا اجلاس

32
اسلام آباد، نومبر 09(اے پی پی):سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی محمد عثمان خان کاکڑ کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا۔ فنکشنل کمیٹی اجلاس میں 11اکتوبر2017 کو کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کے علاوہ وزارت کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مسائل کی گزشتہ پانچ سالوں کے دوران صوبوں اور فاٹا میں کارکردگی، صوبہ بلوچستان کے لئے وفاقی حکومت کی طرف سے 2013-14 سے2018-19تک پی ایس ڈی پی میں مختلف جاری، نئی سکیموں اور مکمل منصوبہ جات کے علاوہ وزارت کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مستقل کنٹریکٹ، اڈہاک، ڈیپوٹیشن پر آئے ملازمین کی تعداد، بجٹ اور درپیش مسائل کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی سفارشات پر عملدرآمد کے حوالے سے فنکشنل کمیٹی کو بتایا گیا کہ چشمہ ژوب سے ڈی آئی خان منصوبے کے گرڈ اسٹیشن کی 220KV ٹرانسمشن لائن کی لمبائی 220کلومیٹر ہے جس کا 83کلومیٹر کام مکمل ہو چکا ہے یہ منصوبہ جون 2020تک مکمل ہو گا جبکہ اس کا آغاز جون2016 میں ہوا تھا جبکہ این ٹی ڈی سی اس پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے۔ اس کی لاگت 500ملین ہے جس میں سے 200ملین جاری کر دیئے گئے ہیں۔ سی پیک منصوبے کے حوالے سے ڈی آئی خان سے ژوب اور ژوب سے کچلاک اور کوئٹہ سے سراب تک کمیٹی نے تیس ملین سے زائد کی فنڈ مختص کرنے کی ہدایت پر کمیٹی کو بتایا کہ پی ایس ڈی پی 2017-18 میں پانچ ارب روپے یارک سے مغل کوٹ تک فراہم کئے گئے۔2018-19کی پی ایس ڈی پی میں 7ارب روپے مختص کئے گئے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2017-18کی پی ایس ڈی پی میں زمین کی خریداری کے لئے پانچ ارب روپے مختص کئے گئے تھے مگر ان کا اجراء نہیں کیا جا سکا ۔ زیتون کی کاشت کے فروغ کے لئے زیادہ فنڈ جاری کرنے کے بارے میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس منصوبے کا نام بلوچستان میں زیتون کو فروغ دینا تھا۔ منصوبے کی کل لاگت 2444.54ملین رکھی تھی جس میں سے بلوچستان کا حصہ 773ملین بنتا تھا، اس پر کام کیا جا رہا ہے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ لورا لائی، زیارت، قلعہ سیف اللہ، ژوب اور شیرانی وغیرہ زیتون کی کاشت کے لئے بہترین علاقے ہیں۔ لہٰذا ان علاقوں پر وزارت اور بلوچستان کی حکومت خصوصی توجہ کرے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ دس ہزار بجلی کے ٹیوب ویل سولر پر منتقل کرنے کے حوالے سے منصوبے کی منظوری نہی دی گئی لہٰذا یہ منصوبہ واپس پاور ڈویژن کو چلا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ حکومت بجلی پر چلنے والے ٹیوب ویلز کے لئے 21ارب کی سبسڈ فراہم کرتی ہے۔ اگر سسٹم کو سولر پر منتقل کیا جائے تو نہ صرف اس سے بجلی کی بچت ہو گی بلکہ قومی خزانے کا بھی بوجھ کم ہو گا۔ صوبہ بلوچستان میں پانی کی کی کو پورا کرنے کے لئے کمیٹی نے چھوٹے ڈیم بنانے کی سفارش کی تھی جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ بلوچستان کے تقریباً تمام اضلاع میں چھوٹے ڈیمز کی تعمیر پر پہلے سے کام جاری ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بلوچستان میں 12 ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع ہو رہا ہے جو کہ تین ٹربیلا ڈیموں کے برابر ہے جتنا پانی کی کمی کا سامنا ہے بہتر یہی ہوتا کہ ہر ضلعے میں سو چھوٹے ڈیم بنائے جاتے مگر متعلقہ اداروں اور صوبائی حکومت پندرہ سال گزرنے کے باوجود چند ڈیم نہیں بنا سکی۔ لہٰذا کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے منصوبے کو سی پیک کا حصہ بنایا جائے۔صوبہ بلوچستان میں پی ٹی وی کے سگنل نہ ہونے کے معاملے کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی ٹی وی کے سگنل کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں زیارت ،برکھان میں جون 2019 تک کام مکمل ہو جائے گا جبکہ موسیٰ خیل، مسلم باغ اور باقی کم ترقی یافتہ علاقوں میں سنگلز کی فراہمی کیلئے پی ٹی وی اور پی آئی ڈی کو پی سی ون اور پی سی ٹو فراہم کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مسلم باغ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کی تعمیر کے حوالے کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ وزارت پلاننگ ڈویژن کی طرف سے منظور شدہ منصوبہ ہے جبکہ فنڈز کی فراہمی ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا کام ہے ۔ فنکشنل کمیٹی کو صوبہ بلوچستان کے لئے وفاقی حکومت کی طرف سے 2013-14 سے2018-19تک پی ایس ڈی پی میں مختلف جاری، نئی سکیموں اور مکمل منصوبہ جات بارے بھی تفصیلی آگاہ کیا گیا اور وزارت کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مستقل کنٹریکٹ، اڈہاک، ڈیپوٹیشن پر آئے ملازمین کی تعداد، بجٹ اور درپیش مسائل بارے تفصیلی آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ وزارت کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے کل59 ملازمین ہیں جس میں21 افسران کا تعلق کم ترقی یافتہ علاقہ جات سے ہے۔کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر سردار محمد اعظم موسیٰ خیل ، نگہت مرزا، کلثوم پروین کے علاوہ سیکرٹری وزارت کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مسائل اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

اے پی پی / سعیدہ

اے پی پی وی این ایس