سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پاور کا اجلاس

50

اسلام آباد  8 نومبر(اے پی پی ):سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پاور کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فدا محمد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیپکو ، این ٹی ڈی سی کے کام کے طریقہ کار ، فنکشن ، کارکردگی ، بجٹ ، کے الیکٹرک کو 650 میگاواٹ کی سپلائی کے معاہدے کی نئیتجاویز اور گزشتہ پانچ سالوں میں کے الیکٹرک کو فراہم کردہ بجلی کی مقدار اور ٹیرف کے علاوہ ملک ہارون زمان اور مسٹر محمد رمضان کی عوامی عرضداشتوں کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ سپیشل سیکرٹری پاور ڈویژن حسن ناصر نے کمیٹی کو پیپکو کی کارکردگی ، بجٹ اور دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پیپکو 1998 میں قائم کی گئی ۔ اس کے مینڈیٹ میں1998،2007 اور2010 میں تبدیلیاں کی گئیں ۔ 2011 میں کیبنٹ کمیٹی کی سفارش پر پیپکو کو سینٹرل پاور پرچیز ایجنسی کے طور پر تبدیل کر دیا گیا اور وزارت کی طرف سے پیپکو کو ہدایت کی گئی کہ ایچ آر کا تمام ریکارڈ محکموں کو ٹرانسفر کر دیا جائے ۔ گریڈ18 اور اس کے اوپر کے آفسیر کی پروموشن کے معاملات تمام ڈیسکوز اور پیپکو کے ایک سینارٹی لسٹ کے تحت ڈیل کیے جاتے ہیں جبکہ پرنسل ریکارڈ تمام ڈیسکوز اپنے آفسیر کے تیار رکھتی ہے ۔2015 میں پیپکو کے بورڈ نے اس کے مینڈیٹ میں ترمیم کی اور تمام ڈیسکوز ، این ٹی ڈی سی اور پی آئی ٹی سی کے ماتحت تمام کمپنیوں کے منیجنگ ایجنٹ کے کا مینڈیٹ دیا گیا ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کا بجٹ مالی سال 2017-18 میں789 ملین روپے تھا اور2018-19 کا بجٹ670 ملین روپے ہے ۔ ادارے کی کل منظور شدہ اسامیوں کی تعداد 278 ہے جس میں سے64 خالی ہیں ۔ پیپکو تمام ڈیسکوز کی کارکردگی کا جائزہ لے کر رپورٹ تیار کر تا ہے اور بزنس پلان ترتیب دیتا ہے ۔ کمیٹی کو ادارے کے تمام فنکشن بارے تفصیلی آگاہ کیا گیا ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ روشن پاکستان کے نام سے ایک ویب سائٹ تیار کی گئی ہے جس میں شکایت سیل ، لوڈ شیڈنگ ، مجموعی لوڈ وغیرہ صارفین کیلئے دس سہولیات فراہم کی گئیں ہیں ۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ اداروں کی طرف سے ایسی سہولیات صرف کمیٹی اجلاسوں میں معلوم ہوتی ہے عام عوام کو ان کا علم ہی نہیں ہوتا ۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ تمام ڈیسکوز آئندہ اجلاس میں بہتر کیے گئے فیڈز ، بجلی چوری اور اوور بلنگ کی تفصیلات فراہم کریں ۔ سپیشل سیکرٹری پاور نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کی مدد سے بجلی چوری کو روکنے کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔ صوبہ پنجاب میں900 سے زائد بجلی چوری پر چھاپے مارے گئے ہیں اس میں بڑے بڑے گینگ ملوث تھے ۔جلد ہی سندھ اور بلوچستان کیلئے ٹاسک فورس تیار کر لی جائے گی ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈیسکوز کی طرف سے شکایت تھی کہ بجلی چوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے میں مسائل تھے ۔ چار ڈیسکوز میں بجلی چوری بہت زیادہ ہوتی تھی ۔ محکمے کے ملوث افسران کو بھی معطل کیا جارہا ہے ۔ آئندہ اجلاس میں کمیٹی کو بجلی چوری روکنے کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات بارے آگاہ کیا جائے گا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اب تک بجلی چوری اور لائن لاسز کی مد میں9 سو ارب کا قومی خزانے کو نقصان ہو چکا ہے ۔ ڈیفالٹرز کو آئندہ دوبارہ بجلی نہیں دیں گے ۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جو افراد بقیہ ادائیگی کرنے کو تیار ہیں ان کو کنکشن فراہم کیے جائیں اور کمیٹی کو تمام ڈیسکوز کی ہونے والی چوری کی تفصیلات علیحدہ علیحدہ فراہم کی جائیں ۔ سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے کہا کہ جب تک 5Kv کے ٹرانسفارمر اور ABC کیبل نہیں لگائی جائے گی بہتری نہیں آئے گی ۔ قائمہ کمیٹی کو این ٹی ڈی سی کی کارکردگی بارے بھی تفصیلی آگاہ کیا گیا ۔ قائمہ کمیٹی کوبتایا گیا کہ ٹرانسمشن لائنز میں لوڈ اٹھانے میں بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جون2018 تک مزید 3 ہزار میگاواٹ لوڈ ٹرانسمشن لائن برداشت کر سکے گی ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2040 تک بجلی کی پیداوار اور طلب کے حوالے سے ایک سٹڈی کروائی گئی ہے جو نیپرا کو ایک ماہ کے اندر بھیج دی جائے گی ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایک ایک دن تمام ڈیسکوز کو مکمل لوڈ فراہم کیا گیا تاکہ خامیوں کی نشاندہی کر کے دور کیا جا سکے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بہتری کیلئے 765Kv, AC اور 660 Kv, DC پر کام کیا جارہا ہے ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2014 میں 500 Kv کے 13 گرڈ اسٹیشن اور 16950 MV کپیسٹی تھی ۔2018 میں16 گرڈ اسٹیشن اور 20850 MV کپیسٹی ہے ۔2023 میں23 گرڈ اسٹیشن اور کپیسٹی کو 32850 MV تک بڑھایا جائے گا۔ ملک میں کل ٹرانسمشن لائنز 500 kV, 220 Kv اور 132 Kv کی لمبائی 32542 کلو میٹر ہے ۔ این ٹی ڈی سی کے پاس 500 Kv کے16 گرڈ اسٹیشن اور220 Kv کے42 گرڈ اسٹیشن ہیں ۔ این ٹی ڈی سی واحد کمپنی ہے جو منافع ہے اور اس کا چھٹا ٹیرف چل رہا ہے ۔ ادارے نے 2016 میں9 ارب روپے منافع کمایا ،2017 میں10 اور2018 میں14.7 ارب روپے منافع کمایا ۔ این ٹی ڈی سی کی کل ملازمین کی منظور شدہ اسامیوں کی تعداد 12887 جن میں سے3674 خالی ہیں ۔ کمیٹی کو محمد رمضان کی عوامی عرضداشت کے بارے میں تفصیلی آگاہ کیا گیا ۔ محمد رمضان نے کہا کہ میرے بھائی محمد رحیم کو سازش کے تحت شہید کیا گیا ہے ۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سیپکو کس طرح ایک پرائیوٹ شخص سے اس طرح کا کام لے سکتا ہے ۔ سینیٹرآغا شاہ زیب خان درانی نے کہا کہ ادارے نے اس کی انکوائری کی ہے اس کی رپورٹ سب کو فراہم کریں جس پر سپیشل سیکرٹری پاور نے کہا کہ ایک ٹیم انکوائری کیلئے بھیجی ہے اس کی رپورٹ آتے ہی کمیٹی کو فراہم کر دی جائے گی ۔ جس پر قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ جب تک انکوائری مکمل نہیں ہوتی متعلقہ سیپکو ملازمین کو معطل کیا جائے ۔ ملک ہارون رمضان کی عوامی عرضداشت کا بھی تفصیل سے جائزہ لیاگیا کمیٹی کو بتایا گیا کہ ضلع اٹک کے دیہات کانی جنڈ میں بجلی کی فراہم کیلئے 93 ملین کی گرانٹ درکار ہو گی ۔ سپیشل سیکرٹری پاور نے کہا کہ بہتر یہی ہے معاملے کو پلاننگ کمیشن کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ کے الیکٹراک حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ معاہدہ 2015 میں ختم ہوگیا تھا اور نئے معاہدے کیلئے مذاکرات جاری ہیں ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے ہدایت کی تھی کہ کے الیکٹرک کو 650 میگاواٹ بجلی فراہم کی جائے جب تک معاملات حل نہیں ہوتے ۔ سی ای او کے الیکٹرک نے کہا کہ کے الیکٹرک کے ذمہ 50 ارب کی ادائیگی ہے جبکہ حکومت سے اس نے64 ارب روپے لینے ہیں ۔ سپیشل سیکرٹری نے کہا کہ کے الیکٹرک نے جو این ٹی ڈی سی اور سوئی سدرن گیس پائپ لائن کو ادائیگی کرنی ہے حکومت ان کے واجبات نکال کر بقیہ فراہم کرے ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ کے الیکٹرک میں حکومت کا شیئر 24.6 اور عوام کا 9 فیصد ہے ۔کے الیکٹرک حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارے کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 3200 میگاواٹ ہے ۔ صنعتی اور کمرشل شعبے کی طلب چھ ، چھ سو ہے ۔ جبکہ گھریلو صارفین کی طلب 1600 میگاواٹ ہے ۔ گیس سے100 میگاواٹ تیار ہو سکتی ہے جبکہ800 میگاواٹ تیار کی جارہی ہے ۔کراچی کی مجموعی طلب2700 میگاواٹ ہے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کے الیکٹرک کی 74 مشینیں ہیں اور 2400 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے ۔ مشینیں پرانی ہیں سردیوں میں کچھ مشینوں مرمت کیلئے بند کیا جاتا ہے ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ کے الیکٹرک 2012 سے2016 تک منافع میں رہی آگے کا آڈٹ ہونے پر آگاہ کر دیا جائے گا گزشتہ سال26 ارب کا منافع ہوا تھا ۔ بل ریکوری 90فیصد ہے ۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کے الیکٹرک کے مسائل کے حل کیلئے بہتریہی ہے کہ وزارت خزانہ ، وزارت پیٹرولیم اور وزارت پاور مل کر معاملات کو حل کریں ۔ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز اورنگزیب خان ، مولوی فیض محمد ، محمد اکرم ، آغا شاہ زیب خان درانی ، احمد خان اور نعمان وزیر خٹک کے علاوہ سپیشل سیکرٹری پاور ڈویژن ، سی ای او آئیسکو ، ایڈیشل سیکرٹری پاور ڈویژن ، پیپکو ، سیپکو ، این ٹی ڈی سی اور کے الیکٹرک کے حکام نے شرکت کی ۔

اے پی پی /سحر

اے پی پی /سحر