قومی اسمبلی اجلاس

34

اسلام آباد، 08 نومبر (اے پی پی ):قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے ریڈیو پاکستان کی عمارت کو پٹہ پر دینے کے حوالے سے قومی اسمبلی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ  پی بی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز مجاز فورم ہیں وہ پی بی سی کے اثاثہ جات کے بارے میں فیصلہ کریں گے انہوں نے کہا کہ ہم اداروں کو بہتر بنانے کے لئے تمام ریسورسز استعمال کریں گے ۔ اور اداروں میں ریفارمز بھی  لائیں گے وزیر مملکت برائے مو سمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے وقفہ سوالات کے دوران سوالوں کےجواب دیتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ  مون سون ۲۰۱۸ کے موسم کے دوران لگائے گئے پودوں کی کل تعداد ۴۷ ملین ہے وزیر دفاع پرویز خٹک نے حکومتی اراکین اور اپوزیشن کے اراکین کو کہا کہ ہمیں ایک دوسرے پر الزامات کی سیاست سے گریز کرنا چاہئیے اس سے پارلیمنٹ کا امیج خراب ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہئے کہ ہم ایوان کو اچھی طرح سے چلائیں اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی عادت ڈالیں ۔ قومی اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن شہباز شریف نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن گاڑی کے دو پہیے ہیں انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا ہمیں دیکھ رہی ہ ہم نے عوام اور آئین کے ساتھ اور اس ایوان کے ساتھ جو کمٹمنٹ کی ہے اس کو پورا کرنا ہے پچھلے دنوں ایوان میں جو بد تہذیبی دکھائی گئی وہ کوئی اچھی بات نہیں اگر ہم نے جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو پھر تعمیری سوچ کے ساتھ آگے بڑھا جا سکتا ہے وزیر برائے بجلی ڈویژن عمر ایوب نے ایوان کو بتایا کہ پشاور شہر میں ہم نے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے جس کا بنیادی کام گھریلو صارفین اور صنعتی صارفین کے مسائل کو ترجیعی بنیادوں پر حل کرنا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کا ہر مہنے کا خسارہ چار ارب روپے ہے ۔ ہم نے اس خسارے کو کم کرنا ہے اس لئے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے تاکہ پشاور میں بجلی چوروں اور کنڈا کلچر کا خاتمہ کیا جا سکے قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح دس بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا ہے

اے پی پی /صائمہ