قوم کو دوبارہ سے اُٹھانا ہے تو ہمیں اقبال کی شاعری اور تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا یہ بات غزالہ سیفی پارلیمانی سیکر ٹری برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام یوم اقبال کے حوالے سے ایک روزہ سیمینارکےخطاب میں کہی۔

29

اسلام آباد 9 نومبر(اے پی پی) اختتامی اجلاس کی مجلس صدارت میں ڈاکٹر انیس احمد ،وائس چانسلر ، بین الاقوامی رفاہ یونیورسٹی اور ڈاکٹر اقبال آفاقی شامل تھے۔افتتاحی اجلاس کیِ صدارت انجینئر عامر حسن ،سیکرٹری، قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن نے کی محمد حمید شاہد نے کلیدی خطاب کیا۔دوسرے اجلاس کی صدارت جلیل عالی نے کی۔ غزالہ سیفی نے کہا کہ بچوں کو ادب کی طرف مائل کرنے کیلئے ماؤں کو کردار ادا کرنا چاہیے، بلاشبہ اقبا ل ایک مفکر، شاعر اور بڑے رہنما تھے۔اگر ہم نے اس قوم کو دوبارہ سے اُٹھانا ہے تو ہمیں اقبال کی شاعری اور تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا اور معاشرے میں منفی رجحانات کو ختم کرنا ہوگا۔انجینئر عامر حسن وفاقی سیکرٹری برائے نیشنل ہسٹری اینڈ لٹریری ہیری ٹیج ڈویژن نے کہا کہ اقبال کی فکر ہمارے لیے ایک ہمہ گیر آفاقی پیغام ہے۔ خصوساً آج کے دور میں اُن کی فکر کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے، ہمیں اقبال کے پیغام کو اپنی نئی نسل کو منتقل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔اقبال نے ہمیں دنیا میں باوقار مقام حاصل کرنے کے اُصول بتائے ہیں، علامہ اقبال نوجوان نسل کے شاعر تھے ۔چیئرمین اکادمی ادبیا ت پاکستان سید جنید اخلاق نے کہا کہ اقبال ایک ہمہ گیر شاعر تھے اُن کی فکر کو پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر انیس ،جلیل عالی،محمد حمید شاہد ،ڈاکٹرعبدالکریم،ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد ،اختر رضا سلیمی ڈاکٹر افتخاراحمد کھوکھر اورفریدہ حفیظ نے بھی علامہ اقبال کی شخصیت اور تعلیمات پہ روشنی ڈالی۔

وی این ایس اسلام آباد

اے پی پی /سعدیہ کمال