اسسٹنٹ کمشنر دروش عبد الولی خان کی نگرانی میں دروش میں غیر قانونی ٹرانسپورٹ اڈوں کوسیل (سر بمہر) کردیا گیا

54

 

 

چترال، 06 دسمبر  (اے پی پی):  چترال سے 45 کلومیٹر دور تاریخی قصبے دروش کے بازار کے وسط میں ایک غیر قانونی اڈہ کو بند کیا گیا۔  تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر دروش عبد الولی خان اپنے عملے کے ہمراہ دروش بازار میں گاڑیوں کے اڈہ گئے جہاں سے فلائنگ کوچ،  غواگئی،  فیلڈر،  رافور وغیرہ گاڑیاں دیر،  چترال کیلئے نکلتی ہیں۔  اے سی دروش نے اڈہ کے منشی سے کہا کہ تحصیل میونسپل انتظامیہ نے کروڑوں روپے کی لاگت سے سرکاری اڈہ بنایا ہے جہاں ہر قسم کی سہولت موجو د ہے تو پھر ان غیر قانونی اڈوں کی کیا تُک بنتی ہے۔انہوں نے اڈہ منشی کو ہدایت کی کہ وہ ابھی اور اسی وقت تمام گاڑیوں کو یہاں سے نکال کر سرکاری اڈے میں لے جائے مگر منشی نے کہا کہ گاڑیوں کے ڈرائیور موجود نہیں ہیں اور چابی بھی ان کے پا س نہیں ہے۔ تاہم اے سی دروش نے اڈہ کے دفتر کو تالالگاکر اسے سربمہر یعنی سِیل کردی اور حکم دیا کہ آئند ہ یہا ں سے کوئی گاڑی نہ نکلے۔
ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے عبد الولی خان نے بتایا کہ سرکار نے پہلے سے ٹرانسپورٹ اڈہ بنایا ہے اور یہ اڈہ بازار کے وسط میں ہے جہاں سے گاڑی نکلتے وقت اور داخل ہوتے وقت ٹریفک کو جام کرنے کا باعث بنتا ہے اور راہگیروں کو بھی تکلیف ہے اسلئے اسے بند کردیا گیا اور اسے بازار سے باہر سرکاری اڈہ میں منتقل کیا جارہا ہے۔

اے پی پی/گل حماد فاروقی/فرح

وی این ایس چترال