سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ترقی کے لیے جدید ریسرچ پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے: سینیٹر مشتاق احمد

24

لاہور،11 فروری(اے پی پی )سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے چیئرمین سینیٹر مشتاق احمد نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کے لیے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا کردار اہم ہوتا ہے،اس شعبہ کی ترقی کے لیے جدید ریسرچ پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، پاکستان کا مستقبل تابناک ہے ،یہاں وسائل کی کمی نہیں،کمی ہے تو صرف تحقیق کی،تحقیق سے استفادہ کر کے ترقی کی منازل طے کی جا سکتی ہیں۔

 پیر کے روز پی سی ایس آئی آر لیبارٹریز میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر تے ہوئےسینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ تعلیم ،سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور انفراسٹکچر کی کمی معاشی ترقی میں رکاوٹ کا باعث ہے،سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی کمی کا کوئی متبادل نہیں،اس شعبہ میں ترقی اور ریسرچ نا گزیر ہے ، بحثیت سوسائٹی اپنی ترجیحات کو تبدیل کرنا ہوگا اور اپنے انداز فکر میں بھی تبدیلی لانا ہوگی،جس کے لیے دانشور ،میڈیا اور اکیڈیمیا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی سے منسلک اداروں پر خرچ کرنے اور انہیں مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم ،روزگار اور ترقی میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے،تعلیم کو روزگار سے جوڑنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے،تعلیم کو ریسرچ کی طرف لانا ہوگا جس کے لیے سائنس اور ریسرچ کے بجٹ میں اضافہ بہت ضروری ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرے گی اور کوشش کریں گے کہ ملک میں سائنس و ٹیکنالوجی اور ریسرچ کی ترقی کے لیے بھر پور کردار ادا کریں تاکہ ملک میں ریسرچ کے کلچر کو فروغ دیا جا سکے۔

اس موقع پر سینیٹر پیر صابر علی شاہ ،پی سی ایس آئی آر کے چیئرمین ڈاکٹر شہزاد عالم ،پی سی ایس آئی آر کے ڈی جی قرة العین سید سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشتاق احمد نے شرکاءمیں شیلڈ تقسیم کی۔بعد ازاں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ارکان نے مختلف اداروں کی جانب سے لگائے گئے سٹالز کا دورہ اور معلومات کا تبادلہ کیا۔

تقریب میں صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر امجد چیمہ ،وفاقی سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یاسمین مسعود سمیت صنعتکاروں ،ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

اے پی پی /لاہور/حامد

وی این ایس،   لاہور