سینٹ کمیٹی برائے ریاستی و سرحدی امور کا اجلاس

35

اسلام آباد 11 فروری(اے پی پی ):سینیٹر تاج محمد آفریدی کی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی ریاست و سرحدی امور نے ضم شدہ / فاٹا کے طلباء کیلئے میڈیکل کالجز و انجینئرنگ یونیورسٹیز میں فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں انضام کے بعد 10 سال کیلئے کوٹہ دوگنا کرنے کے حوالے سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن ، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹنل کونسل اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کے سربراہان کو طلب کر لیا ۔سینیٹر تاج محمد آفریدی نے کہا کہ فاٹا کے بچوں کا مستقبل تباہ ہونے سے بچانے کیلئے کمیٹی موثر کردار اد اکرے گی انہوں نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ، پی ایم ڈی سی کے سربراہ اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کے سربراہ کا کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنا انتہائی افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے اور اس پر اداروں کے رہنماؤں کو بذات خود کمیٹی کے سامنے پیش ہونا چاہیے تھا ۔ پی ایم ڈی سی ، ایچ ای سی اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کے افسران نے ادارہ جاتی موقف کمیٹی کے سامنے پیش کیا تاہم کمیٹی نے ان کے نقطہ نظر کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کے سربراہان کو اگلے اجلاس میں نہ صرف طلب کیا بلکہ ہدایات دیں کہ تمام متعلقہ حکام اپنی حاضری کو یقینی بنائیں ۔ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ جمرود اور لنڈی کوتل کی تحصیلوں میں ملیریا کے تدارک اور صفائی پر مامور عملہ اکثر اپنے فرائض منصبی سے غیر حاضر رہتا ہے ۔ کمیٹی نے اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے تفصیل رپورٹ طلب کی اور کہا کہ کمیٹی ان دو اہم شعبوں کی کارکردگی کا بغور جائزہ لے گی اور سفارشات مرتب کرے گی ۔ سینیٹر اورنگزیب خان کے لیویز اور خاصہ دار فورس کو تنخواہیں اور پنشن کی عدم ادائیگی سے متعلق عوامی اہمیت کے مسئلے پر کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایات دیں کہ تنخواہوں اور پنشن کی مد میں ادائیگیوں پر مزید تاخیر نہ کی جائے اور اس پورے مسئلے کا مناسب حل نکالا جائے تاکہ وہ لوگ جن سے زیادہ کام لیا گیا ہے اور وہ اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد سے بھی آگے بڑھ گئے تھے اور ڈیوٹی پر فائز رہے ان کیلئے کوئی منصفانہ طریقہ کار نکال کر مسئلے کو حل کیا جائے ۔کمیٹی کو راہا پروگرام کے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی اور ہوسٹنگ ایریاز کیلئے یورپی یونین اور یو این ایچ سی آر نے 2005 میں ایک پروگرام ترتیب دیا جس کے تحت راہا وجود میں آیا پروگرام 2013 میں ختم ہونا تھا لیکن اس میں2017 تک توسیع کی گئی اور مزید گنجائش موجود ہے کہ اس کی توسیع 2020 کر دی جائے ۔حکام نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت خیبر پختونخواہ میں21، بلوچستان میں9 ، پنجاب میں10 اور سندھ میں 1 سینٹر قائم کیا گیا ۔جس پر سینیٹر یعقوب خان ناصر نے کہا کہ لورا لائی کی تفصیلات کمیٹی کو دی جائیں ۔کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز اورنگزیب خان ، سجاد حسین طوری ، سردار محمد یعقوب خان ناصر ، شمیم آفریدی کے علاوہ سینئر جوائنٹ سیکرٹری سفیران ، خیبر پختونخواہ کے ساتھ ضم شدہ علاقوں کے حکام اور دیگر افسران نے شرکت کی ۔

اے پی پی/احسان/حامد

وی این ایس ،اسلام آباد