وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت گیس سیکٹر معاملات سے متعلق اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس

42

اسلام آباد،12 فروری ( اے پی پی): وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت گیس سیکٹر معاملات سے متعلق اعلیٰ سطحی جائزہ  اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کو ملک میں گیس کی موجودہ اور آئندہ سالوں میں سردیوں اور گرمیوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے  ڈیمانڈ اور سپلائی کی صورتحال، ڈومیسٹک، انڈسٹری و دیگر سیکٹرز کی گیس ضروریات کو پورا کرنے کے لئے موجودہ بندوبست اور مستقبل کی ضروریات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اس موقع پر وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اس وقت تقریباً پچاس ارب روپے کی گیس چوری کا سامنا ہے جو کہ unaccounted for gas (UFG)کے زمرے میں ڈالا جاتا ہے۔ اس چوری شدہ /ضائع گیس کا بوجھ بھی صارفین پر ڈالا جاتا ہے۔ وزیرِ اعظم کو سال 2019اور سال2020میں گیس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیر اعظم  نے ملک بھر میں گیس کی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس کے دوران مستقبل میں بجلی اور دیگر سیکٹر کے لئے گیس کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے فوری طور پر 200ایم ایم سی ایف ڈی گیس مزید منگوانے کا فیصلہ کیا گیا۔ گیس بلوں میں اضافے کی شکایت کے حوالے سے وزیرِ اعظم کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔

 وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ امپورٹد گیس کی مہنگی خرید کے معاہدوں اور دیگر اخراجات کے باوجود 91فیصد گیس صارفین کے بلوں میں محض بارہ سے پینتیس فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ۔زیادہ گیس استعمال کرنے والے صارفین ( پانچ سو اور ہزار مکعب میٹر گیس ماہانہ) کے بلوں میں گیس کی اصل قیمت کو مدنظر رکھ کر اضافہ کیا گیا ۔ان صارفین کی کل تعداد دس فیصد سے کم ہے۔

اجلاس میں وزیرِ خزانہ اسد عمر، وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد حسین، وزیرِ پٹرولیم غلام سرور خان، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، چئیرمین ٹاسک فورس برائے انرجی ندیم بابر، فیڈرل سیکرٹریز، چئیرمین اوگرا، سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کمپنیز کے منیجنگ ڈائریکٹرز و دیگر افسران  نے شرکت کی ۔

اے پی پی/ احسن/فاروق

وی این ایس ،اسلام آباد