پبلک اکاؤنٹس ذیلی کمیٹی کا اجلاس،آڈیٹر جنرل آفس کی کاکردگی پر بریفنگ

20

اسلام آباد،12 فروری (اے پی پی ):پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنونئیر شاہدہ اختر علی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔اجلاس میں آڈٹ حکام  نے آڈیٹر جنرل آفس کی کاکردگی پر بریفنگ دی۔بریفنگ دیتے ہوئے آڈٹ  آفیشلز نے کمیٹی کو بتایا کہ آڈٹ کا مطلب پارلیمان کے منظور کردہ بجٹ کے صحیح استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ مگر کئی ادارے آڈٹ سے انکار کر دیتے ہیں۔

آڈٹ سے انکار کا مطلب پارلیمان کے اختیار کو کم کرنے کے مترادف ہے۔ آڈٹ کا  کام بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔  ادارے سمجھتے ہیں کہ آڈٹ حکام اپنی رپورٹ میں کرپشن کی نشاندہی کریں۔  ہمارے اختیارات میں کسی بھی جرم کی نشاندہی یا ذمہ داری عائد کرنا نہیں۔ مستقبل میں قانون سازی میں آڈیٹرز کو اس طرج کے سوالات سے تحفظ فراہم کیا جائے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ اداروں میں چیف فنانشل اور اکائونٹس آفیسرز کو وزارتوں اور اداروں نے تسلیم ہی نہیں کیا،وزارتوں میں چیف فنانشل افسران کو سیکرٹریز نے ان کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں بھی تعاون نہیں کیا۔ 25 چیف فنانشل افسران کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

آڈٹ حکام کا کہنا تھا کہ ہم وزارت فنانس کا ماتحت ادارہ ہیں اس سے ہماری خود مختاری متاثر ہو رہی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ اس حوالے سے قانون سازی کی جائے اور باقی آئینی اداروں کی طرح ہمیں خود مختاری دی جائے۔

 کمیٹی کو بتایا گیا کہ سال 2015 تک کوئی ادارہ آڈٹ آفس کا آڈٹ نہیں کر سکتا تھا مگر اس سال کے فنانس بل میں یہ کہا گیا کہ صدر پاکستان کوئی آفیسر مقرر کر سکتا ہے آڈٹ آفس کا آڈٹ کروایا جا سکتا ہے ۔

آڈٹ آفیشلز نے بتایا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان  کا ٹوٹل  بجٹ  4.3 بلین کا  ہے،ہمارے تیس فیلڈ آفسز ہیں جس میں یہ بجٹ تقسیم ہو جاتا ہے ۔ہمارے ادارے میں آج تک کوئی بہت بڑی مالی بے ضابطگی نہیں ہوئی۔

اجلاس میں کمیٹی اراکین اور متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔

اے پی پی /صائمہ/حامد

وی این ایس ، اسلام آباد