گھریلو تشدد کے سدباب کے لئے ویمن پروٹیکشن بل 2019خیبر پختون خوا اسمبلی میں پیش

30

پشاور، 11فروری(اے پی پی):خیبرپختونخوا اسمبلی میں پہلی بار گھریلو تشدد کے سدباب کے لئے ویمن پروٹیکشن بل 2019 پیش کر دیا گیا۔ بل کے تحت خواتین پر ذہنی و جسمانی تشدد میں ملوث فرد یا افراد کو قانون کے تحت تین ماہ قید اور تیس ہزار روپے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

خیبر پختونخواہ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر مشتاق غنی کی زیر صدارت ہوا، ویمن پروٹیکشن بل پر بات کرتے ہوئے  صوبائی وزیر قانون سلطان محمد خان نے ایوان کو بتایا کہ بل کے تحت گھریلو تشدد کے خاتمے کے لئے سات رکنی ڈسٹرکٹ پروٹیکشن کمیٹی قائم ہوں گی ۔جو اپنے متعلقہ اضلاع میں ایسے کیسز کو رپورٹ کرنے سے لے کر دادرسی تک متاثرہ خواتین کو قانونی معاونت فراہم کرے گی،رکن اسمبلی عنایت اللہ نے کہا کہ خواتین پر گھریلو تشدد سے بچانے کا بل اہم اورحساس ہے، جسے جلد بازی میں پاس نہ کریں، مولانا لطف الرحمن نے کہا کہ پنجاب میں یہ بل منظور ہونے کے بعد پھرواپس ہوا، اس لیے خیبر پختون خوا اسمبلی میں اس بل کو پہلے کمیٹی میں بھیجا جائے۔

اسمبلی میں وزرا کی مراعات اور استحقاق کے تحت سرکاری رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش کے لیے بجٹ 5 سے 10 لاکھ روپے سالانہ کرنے کا ترمیمی بل بھی پیش کیا گیا،اجلاس میں صوبے کے آٹھ میڈیکل ٹیچنگ ہسپتالوں میں مالی و انتظامی معاملات پر بحث کے دوران سپیکر نے معاملہ قائمہ کمیٹی برائے صحت کو بھجوادیا، اجلاس میں دو توجہ دلاؤ نوٹس نمٹائے گئے جبکہ کیڈٹ کالجز کے معاملات پر غور کے لئے تحریک التواء کمیٹی کو بھجوا دی گئی۔

اجلاس میں خیبر پختونخوا اسمبلی میں اراکین اسمبلی کے بیوی،بچوں اور شوہر کے لئے بلیو پاسپورٹ کے اجراء کی قرارداد بھی منظور کر لی گئی، پیپلز پارٹی کی رکن نگہت اورکزئی نے یہ قرارداد پیش کی جسے ارکان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا،ڈپٹی سپیکر محمود جان کی جانب سے واپڈا اور سوئی گیس کے دفاتر کو اسلام آباد منتقل کرنےاورجے یو آئئ کے رکن منور خان کی لکی مروت میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی تعیناتی کی قرارداد بھی ایوان نے منظور کرلی،اجلاس میں ایم ایم اے کے رکن عنایت اللہ کی جانب سے فاٹا میں انتظامی مسائل کے حوالے سے تحریک التوا پیش کی جسے بحث کیلئے منظور کر لیا گیا،اجلاس اب کل صبح دس بجے ہوگا۔

اے پی پی /صائمہ حیات /حامد

وی این ایس  پشاور