وزیر اعلیٰ سندھ کا اداروں کےترقیاتی اسکیموں کا جائزہ، منصوبے جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت

0
20

 

کراچی، 15 مارچ (اے پی پی ): وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے آج تعلیم، رورل ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ (آر ڈی ڈی) اور پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ ڈپارٹمنٹ کی 33.6 بلین روپے کی 443 جاری ترقیاتی اسکیموں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ وہ کام کی رفتار سے مطمئن نہیں ہیں ، انہوں نے متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ وہ جون 2019 تک 205 اسکیمیں مکمل کریں نہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

سیکریٹری اسکول ایجوکیشن قاضی شاہد پرویز نے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 15.15 بلین روپے کی 201 اسکیمیں روبہ عمل ہیں جن کیلئے 6.9 بلین روپے جاری کئے جا چکے ہیں جبکہ اب تک 3.5 بلین روپے استعمال ہوچکے ہیں، ان اسکیموں میں کراچی اور حیدرآباد میں ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن انٹر وینشن کا قیام اور تھرپارکر میں اسکولوں کی تعمیر اور مختلف اضلاع اور کراچی میں شیلٹرلیس اسکولوں کی تعمیر شامل ہیں،وزیراعلی سندھ نے صوبائی وزیرتعلیم سردار شاہ کو ہدایت کی کہ وہ ذاتی طور پر ان کالج کی اسکیموں کا دورہ کریں اور 48 میں سے 35 اسکیمیں جون 2019 تک مکمل کی جائیں کیونکہ یہ آئندہ اے ڈی پی سے خارج ہوجائیں گی

سیکریٹری آر ڈی ڈی حسن نقوی نے وزیراعلی سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 800 ملین روپے کی 49 اسکیمیں جاری ہیں۔ محکمہ خزانہ نے 660 ملین روپے جاری کر دیئے ہیں جس میں سے صرف 9 ملین روپے استعمال ہوئے ہیں، اس پر وزیراعلی سندھ نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود ایک اچھی خاصی رقم محکمہ خزانہ نے جاری کی ہے مگر اس کا استعمال اطمینان بخش نہیں ہے۔،وزیراعلی سندھ نے سیکریٹری آر ڈی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 2 جون 2019 تک 28 اسکیمیں مکمل کر کے انہیں رپورٹ دیں۔

وزیراعلی سندھ نے چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم پر زور دیا کہ وہ اسکول، کالج، آر ڈی ڈی اور محکمہ پی ایچ ای کی اسکیموں کے معائنہ کیلئے اپنی ٹیمیں بھیجیں اور کام کے معیار کا جائزہ لے کر انہیں وقتا فوقتا انہیں رپورٹ دیتے رہیں ۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ وہ جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ وہ وقت پر مکمل ہوسکیں۔

اجلاس میں وزیر تعلیم سید سردار شاہ، وزیر بلدیات سعید غنی، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن قاضی شاہد پرویز، سیکریٹری خزانہ نجم شاہ، سیکریٹری پی ایچ ای حسن نقوی اور سیکریٹری کالجز پرویز  بھی شامل تھے۔

سورس: وی این ایس کراچی