پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس

10

اسلام آباد،  15 مارچ (اے پی پی ): پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنونئیر سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔

اجلاس میں نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے  مالی سال 2014-15  اور اس کی ذیلی اداروں کے  سال 2015-16 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔

سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ  سپلیمنٹری گرانٹس تنخواہوں کی مد میں لی گئی تھی لہذا ہماری درخواست ہے کہ اس کو سیٹیل کر دیا جائے۔

کنونئیر کمیٹی نے کہا کہ سپلیمنٹری گرانٹس کا رواج ہو چکا ہے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر جو گرانٹس آ رہی ہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ان کو سیٹیل نہیں کرے گی،   ہم نے اصولی فیصلہ کر لیاہے  کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد ہی گرانٹس کو سیٹیل کرے گی۔

اجلاس میں آڈٹ حکام نے  کمیٹی کو بتایا کہ 2014۔15 میں  نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے ایک پراجیکٹ کے لئے کنسورشیم کے تحت 5.330 ملین روپے کی رقم  بیرونی امداد کی مد میں دی گئی۔ اس پراجیکٹ میں صرف 1.179 ملین روپے خرچ کئے گئے جبکہ 3.611 ملین روپے سرینڈر کر دئیے گئے۔ 9 2 کروڑ کی گرانٹ لیپس ہوئی ،جس پر شیری رحمان نے برہمی کا اظہار کیا۔

 کمیٹی نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ مختص کئے گئے پیسوں کو پراجیکٹ کے لئے خرچ کیوں نہیں کیا گیا اتنے پیسے سیونگ کی مد میں کیوں سرینڈر کئے گئے۔

سیکریٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے کہا کہ ہمیں دس جون کو پیسے جاری کئے گئے ہم 15 مئی کو کیسے واپس کر سکتے تھے۔ کنونئیر کمیٹی نے کہا کہ لگتا ایسے ہے کہ ادارہ پیسے مختص ہو جانے کے بعد بھی کام شروع کرنے کو تیار نہیں ۔انہوں نے کہا کہ مالیاتی نظام ایسے نہیں چل سکتا ہم جانتے ہیں کہ فنانس ڈیپارٹمنٹ کا یہ طریقہ کار ہے کہ وہ فنڈز کو جاری کرنے میں تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ہم اس سسٹم کو ٹھیک کرنے کی پوری کوشش کریں گے وزارت خزانہ کو چاہئے کہ وہ وزارتوں کو مختص پیسوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا پوری پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو  سپلیمنیٹری گرانٹس کے معاملے پر مل کر بیٹھنا ہوگا اور اس معاملے کو حل کرنا ہوگا۔

سورس:  وی این ایس اسلام آباد