اسلام کے خلاف منفی تاثر کو زائل کرنے کیلئے صوفیاءکرام کی تعلیمات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے: ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

0
34

اسلام آباد ،13 مئی(اے پی پی):وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اسلام کے خلاف منفی تاثر کو زائل کرنے کیلئے صوفیاءکرام کی تعلیمات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ، صوفیاءکرام کی سوچ انسانیت سے محبت، امن، بھائی چارے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے پرچار پر مبنی ہوتی ہے۔آئی ایم ایف بھی ایک کڑوی گولی ہے جو حکومت کو کھانا پڑی، حکومت نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا مشکل فیصلہ کیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو شاہ عبداللطیف سوشل اینڈ کلچرل ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام حضرت لعل شہبازقلندر کے 767 ویں عرس کے حوالہ سے قومی ادبی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئی ایم ایف کے نام پر میڈیا میں بھونچال آیا ہوا ہے، اپوزیشن کیلئے ہر دلعزیز لفظ اور جملہ آئی ایم ایف بنا ہوا ہے، پاکستان میں آئی ایم ایف اتنا مقبول ہو گیا کہ اس کا آئی ایم ایف والوں کو بھی پتہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف بھی عوام کو ریلیف دینے کی کڑی ہے، حالات خراب ہوں تو ڈاکٹر بھی کڑوی گولی دیتا ہے، آئی ایم ایف بھی ایک کڑوی گولی ہے جو حکومت کو کھانا پڑی، آئی ایم ایف کی کڑوی گولی لانگ ٹرم ریلیف کیلئے ہے، حکومت کے اس اقدام کے بعد ملکی معیشت اپنے پاﺅں پر کھڑی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ درگاہوں، مزاروں اور صوفیاءکرام پر یقین ہے، صوفیاءکرام روحانی یونیورسٹیاں ہوتی ہیں جہاں سے لوگ ان کی تعلیمات سے فیض یاب ہوتے ہیں، ان صوفیاءکرام کی سوچ انسانیت سے محبت، امن، بھائی چارے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے پرچار پر مبنی ہوتی ہے، ان صوفیاءکرام کے مزاروں پر ہر مذہب اور نسل کے لوگ جا کر فیض حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو دہشت گردی جیسے کینسر کا چیلنج درپیش ہے، لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر انتہاءپسندی نے دہشت گردی کا روپ دھار کر خون کی ہولی کھیلی، وزیراعظم عمران خان ملک سے اس کینسر کے علاج کیلئے مصروف عمل ہیں، اس مرض کا علاج کیموتھراپی سے کرنے کی بجائے اسے جسم سے الگ کرکے پھینک دینا چاہئے، ماضی میں اس کینسر کی بہت کیموتھراپی کی گئی لیکن یہ وقتی طور پر ختم ہو گیا لیکن پھر ابھر کر سامنے آیا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ملک میں صوفی ازم کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، صوفیاءکرام اور درگاہوں نے اپنے عمل اور امن سے اسلام پھیلایا، انہوں نے تلوار، کلاشنکوف اور بےگناہوں کی گردنیں کاٹ کر اسلام نہیں پھیلایا۔ انہوں نے کہا کہ علماءکرام اور دانشوروں نے قلم کی طاقت سے معاشرہ میں اپنا کردار ادا کیا ہے، معاشرہ کے مثبت خدوخال کو اجاگر کرنے کیلئے اس کے علاوہ کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہمیں واپس صوفیاءکے راستے پر آنا ہے، ہم اپنے راستے سے بھٹک گئے تھے، صوفی ازم کا درس فلاح انسانیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک حکومتی پالیسیوں میں عوامی فلاح شامل نہ ہو تب تک وہ حکومت کا میاب نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ صوفیاءکرام جیسی شخصیات پر ریسرچ کیلئے سکالرشپ دئے جائیں اور نوجوانوں کی سوچ کو صوفیاءکرام کی تعلیمات سے ہم آہنگ کرنے کیلئے یونیورسٹیوں کی سطح پر خصوصی چیپٹر تشکیل دیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو ہدایات دی ہیں کہ یونیورسٹیوں میں ایسے ڈیسک بنائے جائیں جہاں نوجوانوں کو صوفیاءکرام کی تعلیمات سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے اور دنیا کے سامنے اسلام کا حقیقی تشخص اجاگر کیا جائے، القادر یونیورسٹی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس کا افتتاح وزیراعظم عمران خان نے کیا ہے، اس یونیورسٹی کے قیام کا مقصد صوفی ازم کو سائنس و ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑنا ہے، سائنس مسلمانوں کی وراثت میں شامل تھی، بدقسمتی سے وہ ہم سے دور چلی گئی ہے۔

وی این ایس ، اسلام آباد