سال2020 استحکام کا سال ہے،ہم اپنی معیشت کو خطرات سے بچا کر آگے لے جانا اور اسے پائیدار بنیادوں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں:وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کا وسط مدتی اقتصادی فریم ورک کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب

0
40

اسلام آباد، 25 مئی (اے پی پی): وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ، محصولات واقتصادی امورڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ سال2020 استحکام کا سال ہے،ہم اپنی معیشت کو خطرات سے بچا کر آگے لے جانا اور اسے پائیدار بنیادوں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کے پاکستان کی معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے،معاشرے کے کمزور طبقات کو مہنگائی کے اثرات کے بچانے کیلئے پالیسی مرتب کی ہے، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں حکومت 75 فیصد صارفین ، جو 3 سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کررہے ہیں، پر کوئی بوجھ نہیں ڈالے گی ،گیس قیمتوں میں اضافے کی صورت میں 40 فیصد صارفین کو تحفظ فراہم کیا جائے گا ،احساس پروگرام کی رقم100 ارب سے بڑھا کر 180 ارب کی جارہی ہے، رواں سال سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کا حجم 6 سو ارب سے بڑھا کر 925 ارب روپے کردیا جارہا ہے تاکہ بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے منصوبے مکمل ہوسکیں، پاکستان مشکل خطے میں واقع ہے اور مشکل دشمن کا سامنا ہے، قومی عزت،وقار اور سرحدوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا اور پاکستان کی عوام کی حفاظت کیلئے جو بھی قربانی دینی پڑی وہ ہم دیں گے، ترقی کا سفر پوری قوم مل کر کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں وسط مدتی اقتصادی فریم ورک کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پریس کانفرنس میں وزیر مملکت محصولات حماد اظہر ،وفاقی وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، وفاقی وزیر پٹرولیم عمر ایوب خان ،وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ،سیکرٹری اطلاعات شفقت جلیل،سیکرٹری خزانہ نوید خرم بلوچ ،چیئرمین ایف بی آر سید شبر زیدی اور وزارت خارجہ کے ترجمان و مشیر ڈاکٹر خاقان نجیب بھی موجود تھے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ جب موجودہ حکومت اقتدار میں آئی تو حکومت اقتصادی مشکلات کا شکار تھی،کل اندرونی قرضہ 31 ہزار ارب روپے اور بیرونی قرضہ100 ارب ڈالر تھا ،ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر سے کم تھے ،برآمدی شعبہ کی کارکردگی صفر تھی ۔مالیاتی خسارہ 2.3 کھرب روپے تھا جبکہ گردشی قرضہ 38 ارب روپے ماہانہ تک پہنچ چکا تھا۔ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 2017 سے کم ہونا شروع ہوگئی تھی جبکہ بڑھوتری کی رفتار بھی 5 فیصد سے گر رہی تھی ایسے میں تمام معاشی مشکلات میں جو فوری ذمہ داری بنتی تھی وہ حالات پر قابو پانا تھا حکومت نے فوری نوعیت کے اقدامات کئے چین ،متحدہ امارات اور سعودی عرب سے 9.2 ارب ڈالر کی امدادلی گئی جس سے ادائیگیوں میں توازن کو یقینی بنایا گیا شرح سود کو بھی مینج کیا گیا،درآمدات کی شرح میں کمی لائی گئی اور اس میں کمی کا حجم 2 ارب ڈالر ہے ،ترسیلات میں اضافے پر توجہ دی گئی،گردشی قرضہ جو 38 ارب روپے ماہانہ کی سطح پر تھا اسے 26 ارب روپے سطح پر لایا گیا اس میں 12 ارب روپے کی کمی خوش آئند ہے اس طرح برآمدی شعبہ کو بھی مراعات دی گئیں۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت نے وسعت مدتی اقتصادی فریم ورک واضح کیا ہے اس میں تقریباً تمام شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے،بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ سٹاف لیول کا معاہدہ ہوچکا ہے ،آئی ایم ایف کا بورڈ چند ہفتوں میں اس کی منظوری دے گا جس کے بعد معاہدہ آپریشنل ہوجائے گا، پاکستان میں بے نامی قانون کی وجہ سے بہت ساری رقم باقاعدہ معیشت میں نہیں آرہی تھی،معیشت کو دستاویزی بنانے اور کیش اور رئیل اسٹیٹ کو معیشت میں شامل کرنے کیلئے اقدامات کئے گئے ،سعودی عرب نے موخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی کا جو اعلان کیا تھا اس پر یکم جولائی سے عمل درآمد کا آغاز ہوگا،انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کے پاکستان کی معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے اس کے نتیجے میں عالمی بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک سے 2 سے 3 ارب ڈالر مالیات کے پروگرام لون پاکستان کو ملیں گے،اسی طرح اسلامی ترقیاتی بنک بھی موخر ادائیگی پر 1.2 ارب ڈالر کی فیسیلٹی دے گا یہ ایسے اقدامات ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں اور اداروں کا اعتماد بحال ہوگا،مشیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کا ادارہ رکن ممالک کے اقتصادی مسائل کے حل کیلئے بنایا جاتا ہے۔ آئی ایم ایف کے پروگرام کیلئے کئی ممالک جاچکے ہیں پاکستان بھی ماضی میں آئی ایم ایف کے پاس جاچکا ہے ، ہمارا پروگرام تین سال کا ہے اس کے تحت پاکستان کو 3.2 فیصد کی شرح سے قرضہ دیا جائے گا،اس پروگرام سے دیگر اداروں کو بھی پاکستان کی فنانسنگ کی طرف راغب کرنے میں مدد ملے گی، اس سے ایک اچھا پیغام یہ بھی جائے گا کہ پاکستان منظم انداز میں اپنے اقتصادی معاملات کو آگے لے کر بڑھ رہا ہے،انہوں نے کہا کہ اثاثوں کو ظاہر کرنے کی سکیم آسان ہے تمام پاکستانی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اس سے رئیل اسٹیٹ باضابطہ معیشت کا حصہ بنے گی اس کا ٹائم فریم 30 جون تک ہے ،اس مدت کے بعد ایکشن ہوگا،مشیر خزانہ نے کہا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں مارکیٹ پر اعتماد بحال ہوا ہے ،گزشتہ چند روز میں اسٹاک مارکیٹ میں 7 فیصد اضافہ ہوا ،گزشتہ دو دنوں میں اسٹاک مارکیٹ جو تیزی دیکھی گئی ہے اس کی مثال گزشتہ 10 سالوں میں نہیں ملتی ۔مستقبل کے لائحے عمل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سال2020 استحکام کا سال ہے،ہم اپنی معیشت کو خطرات سے بچا کر آگے لے جانا اور اسے پائیدار بنیادوں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں تاکہ بعد کے آنے والے برسوں میں بڑھوتری اور ترقی کا سفر اہداف کے مطابق پائیہ تکمیل تک پہنچ سکے ،ان اہداف کے اصول کیلئے بجٹ میں کفایت شعاری پر توجہ دی جائے گی، حکومتی اخراجات کم ہوں گے بجلی کے نقصانات کم کئے جائیں گے،31 دسمبر2020 تک لائن لائسس زیرو کردیئے جائیں گے،ریونیو بڑھانے پر توجہ دی جائے گی، ایف بی آر کو5.5 ٹریلین روپے کا ٹارگٹ دے رہے ہیں،پاکستان کے امیر طبقات کو ٹیکس ادا کرنا ہوگا تب ہی ہم مشکلات سے نکل سکتے ہیں، جس طریقہ کار پر حکومت عمل کررہی ہے ، اس میں کوشش کریں گے کہ جو لوگ ٹیکس دے رہے ہیں ان پر اضافہ بوجھ نہ ڈالا جائے ،مشیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس کے دائرہ کار میں وسعت لانا ضروری ہے ،اس وقت 360 کمپنیاں مجموعی ٹیکس کا 25 فیصد ادا کررہی ہے،ملک میں 20 لاکھ کے قریب لوگ ٹیکس دے رہے ہیں جن میں 6 لاکھ کے قریب تنخواہ دار طبقہ بھی شامل ہے،31 لاکھ کمرشل صارفین میں سے 14 لاکھ ٹیکس دے رہے ہیں ، اسی طرح 4 لاکھ کے قریب صنعتی صارفین میں سے صرف 38 ہزار کے قریب ٹیکس دہندگان ہیں،انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور افراط زر پر قابو پانا حکومتی ترجیحات میں شامل ہے،ایکسچینج ریٹ اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اس پر حکومت کا اختیار نہیں ہوتا ،موجودہ حکومت نے معاشرے کے کمزور طبقات کو مہنگائی کے اثرات کے بچانے کیلئے پالیسی مرتب کی ہے عام لوگوں کی خوشحالی اور انہیں معاشی مشکلات سے نکالنے کیلئے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں حکومت 75 فیصد صارفین ، جو 3 سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کررہے ہیں، پر کوئی بوجھ نہیں ڈالے گی اس مقصد کیلئے زر تلافی کی مد میں 211 ارب روپے رکھے جائیں گے،گیس قیمتوں میں اضافے کی صورت میں 40 فیصد صارفین کو تحفظ فراہم کیا جائے گا ،احساس پروگرام کی رقم100 ارب سے بڑھا کر 180 ارب کی جارہی ہے،پسماندہ علاقہ جات کو ترقی کے دائرے میں لانے کیلئے50 ارب روپے کے اضافی فنڈ دیئے جارہے ہیں اسی طرح قبائلی علاقہ جات کیلئے 46 ارب روپے کے اضافی فنڈ دیئے جائیں گے، فوڈ سبسڈی کیلئے30 ارب روپے کے فنڈز مختص کئے جائیں گے،مشیر خزانہ نے کہا کہ نئی ملازمتوں کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں ،معیشت کی بڑھوتری اگرچہ اچھی نہیں لیکن اگر ہم پالیسیاں بہتر بنائیں تو اس سے ملازمتوں کے زیادہ مواقع حاصل ہوسکتے ہیں،2008 سے2013 تک گروتھ ریٹ کم تھا لیکن پالیسیاں بہتر ہونے سے لاکھوں کی تعداد میں ملازمتیں پیدا ہوں گی،2013 سے 2018 تک اگرچہ گروتھ ریٹ اچھا تھا لیکن پالیسیاں اچھی نہ ہونے سے ملازمتوں کے مواقع کم پیدا ہوئے ،انہوں نے کہا کہ ہاﺅسنگ پروگرام کے تحت 28 شعبوں میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے،اس کے تحت کئی شہروں میں کام شروع ہوچکا ہے،کامیاب جوان پروگرام پر عمل درآمد کا آغاز کیا گیا ہے نوجوانوں کو رعایتی نرخوں پر قرضے دئیے جائیں گے اس کیلئے 100 ارب مختص کئے جارہے ہیں، زراعت کو بہتر بنایا جارہا ہے ہماری کوشش ہے کہ زرعی ترقی کیلئے 250 ارب روپے مختص کئے جائیں اس میں کل 28 پراجیکٹ ہوں گے جس پر صوبوں کے ساتھ مل کر بھی کام کیا جائے گا، مشیر خزانہ نے کہا کہ درآمدات پر توجہ کم کرکے مینوفیکچرنگ پر توجہ دیں گے جس پر روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے ہماری کوشش ہوگی کہ پرائیویٹ شعبہ کو ملازمتیں فراہم کرنے والا شعبہ بنایا جائے اس مقصد کیلئے ٹیکس کی مد میں نجی شعبہ کو مراعات دیں گے تاکہ وہ زیادہ لوگوں کو روزگار فراہم کرسکیں انہوں نے کہا کہ رواں سال سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کا حجم 6 سو ارب سے بڑھا کر 925 ارب روپے کردیا جارہا ہے تاکہ بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے منصوبے مکمل ہوسکیں،صوبوں کے ساتھ مل کر ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ رقوم کا درست استعمال ہوسکے،برآمدات میں اضافے کیلئے چین اور ترقی کے ساتھ خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں،مشیر خزانہ نے کہا کہ مشکلات کے دن ختم ہونے جارہے ہیں 6 سے 12 مہینے استحکام کا پروگرام ہے اس کے بعد ریکوری اور گروتھ کا دور ہوگا حکومت کی اقتصادی ٹیم متحد ہے ،یہ وقت ہے کہ ہم اختلافات بھلا کر ملکی ترقی اور استحکام کیلئے کام کرسکیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ابھی صرف سٹاف لیول کا معاہدہ ہوا ہے اس لئے معاہدے کی تمام تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتی جب بورڈ اس کی منظوری دے گا تب تفصیلات بھی دی جائیں گی،انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی سکیم کا مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا ہے ،ماضی کی سکیموں اور موجودہ سکیموں میں بہت فرق ہے ، ہمارا مقصد یہ ہے کہ بزنس مین کو ٹیکس کے معاملات میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، دفاعی بجٹ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان مشکل خطے میں واقع ہے اور مشکل دشمن کا سامنا ہے، قومی عزت،وقار اور سرحدوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا اور پاکستان کی عوام کی حفاظت کیلئے جو بھی قربانی دینی پڑی وہ ہم دیں گے،انہوں نے کہا کہ ترقی کا سفر پوری قوم مل کر کریں گے۔

سورس:و ی این ایس ، اسلام آباد