سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا  اجلاس

2

اسلام آباد، مئی 29 (اے پی پی): سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا  اجلاس  بدھ کو  یہاں منعقدہوا  ،جس  میں موبائل رجسٹریشن میں مسافروں کا ڈیٹا کا غلط استعمال ہونے کا پر ممبر پی ٹی اے نے کہا کہ ٹریول ایجنٹس مسافروں کا ڈیٹا پہلے ہی لیک کر دیتے ہیں، ایف آئی اے نے کاروائی کر کے کچھ لوگوں کو پکڑا ہے- ڈیٹا فائر وال کو بریک کرنے کے بجائے مینول انداز سے لیک کیا جاتا ہے۔

چیئرپرسن کمیٹی روبینہ خالد نے   ڈیٹا لیک ہونے کے معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا حکومت کو پتہ ہی نہیں مسافروں کا ڈیٹا کہاں جا رہا ہے۔

ممبر پی ٹی اے نے کہا کہ ہم موبائل رجسٹریشن ایف بی آر کے ساتھ شیئر کرتے ہیں اور ایف بی آر یہ تفصیل ایف آئی اے کو دیتا ہے۔

سینیٹر رحمن ملک نے کہا کہ پاکستان میں موبائل انڈسٹری نہ ہونے سے نقصان ہوا، لینڈلائن پر کنٹرول تھا موبائل فون پر نہیں ہے۔ ایک آئی ایم آئی نمبر پر ہزاروں فون رجسٹرڈ ہوئے، میں نے کہا تھا جب تک ائیر پورٹ پر فون رجسٹریشن ختم نہیں ہوتی اجلاس میں نہیں بیٹھوں گا۔

انہوں نے کہا کہ دنیامیں کہیں ایسا نہیں ہوتا پاکستان اوورسیز کو ائیر پورٹ پر لائنوں میں کھڑا کیا جا رہا ہے،اسمگلنگ کرنے والے کنٹینر بھر کر موبائل فون لا رہے ہیں اورتنگ مسافروں کو کیا جا رہا ہے۔

رحمن ملک نے کہا کہ ایف بی آر کو کتنی ڈیوٹی ملتی ہو گی اس ڈیوٹی سے اوورسیز کی قیمت کا موازنہ نہیں جا سکتا۔

پی ٹی اے  حکام نے بتایا کہ 4 ماہ میں 92 لاکھ 72 ہزار سے زائد دیوائسز پی ٹی اے نے رجسٹر کی ہیں، گزشتہ 3 ماہ میں 6 لاکھ 63 ہزار سے زائد نجی استعمال اور 9 لاکھ سے زائد کمرشل ڈیوائسز رجسٹرڈ کی گئیں- اسی طرح ایف بی آر بیگج رولز کے تحت 4 لاکھ 40 ہزار موبائل رجسٹر کئے اور12 ہزار 293 موبائل پر ڈیوٹیاں ادا کی گئیں-

سینیٹر روبینہ خالد نے پی ٹی اے حکام سے کہا کہ اپ ادھر ادھر کی بات نہ کریں بتائیں اس پالیسی کا ملک کو فائدہ ہے-

سینیٹر فیصل جاوید نے  پی ٹی اے حکام پراظہار برہمی کرتے ہوۓ کہا کہ پی ٹی اے جنگل سے نکلیں اور عوام کو صاف بات بتائیں یہ نظام بہت کارآمد ہے عوام کو معلوم ہی نہیں-

موبائل فون کی رجسٹریشن پر کتنا ٹیکس ملا، کمیٹی ارکان نے پی ٹی اے حکام سے استفسارکیا جس پر  پِی ٹی اے حکام  نے کہا ڈیوٹی ٹیکس ایف بی آر جمع کرتا ہے وہی بتائے گا،قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں ایف بی آر کو طلب کر لیا۔

سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ ہمیں لوگوں کی زندگی کو آسان بنانا چاہے اور اسکے لئے اقدامات اٹھے جانے چاہیں-

ممبر پی ٹی اے نے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے موبائل پر ڈیوٹی کا نظام ایف بی آر کا وی باک سسٹم ہے مسافروں پر ڈیوٹی کا نظام پی ٹی اے نے تشکیل نہیں دیا-

سینیٹر تاج آفریدی نے کہا کہ دنیا میں موبائل کی ایک قیمت ہے لیکن ہمارے ہاں عوام کو مہنگا پڑتا ہے اس نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے-

مسئلہ کے حل کے لئے آئندہ اجلاس میں سروس پروائڈرز اور ایف بی آر کو طلب کرلیا گیا-

ممبر پی ٹی اے نے کہا کہ سینیٹ جو سفارش کرے گی اس پر عمل ہوگا اگر ایف بی آر نوٹفیکشن نکال دیں کہ مسافروں سے ڈیوٹی نہ لی جائے تو پابندی ختم ہوسکتی ہے-

سینیٹر عتیق شیخ  نے کہا کہ دنیا کی طرح عوام کے لیے عام نظام رائج کیا جائے پی ٹی اے ایک فیصد کا نظام رائج کررہا ہے، ممبر پی ٹی اے نے کہا ہم نے 15 جنوری تک اضافی ائی ایم ای ائی نمبرز کو ٹھیک کیا، ایکٹ کے مطابق ڈوپلکیٹ ائی ایم ای ائی کو پی ٹی اے بلاک کرے گا-

سینیٹرز نے کہا کہ ڈوپلکیٹ ائی ایم ای ائی بنانے والوں کو پکڑا کیوں نہیں جاتا؟

سینیٹر رحمان ملک نے موبائل ریپرئرنگ شاپس کے لئے لائسنس کا پابند کرنے کی تجویز دیتے ہوے کہا کہ موبائل ورکشاپس والے سیکورٹی کیساتھ کھیل رہے ہیں، پی ٹی اے ایسے ورکشاپس کو لائسنس جاری کرے-

 وی این ایس اسلام آباد