انضمام شدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ کو ترقیاتی عمل  تیز کرنے کیلئے اعتما د میں لیا جائے،سینیٹر تاج محمد آفریدی

0
36

اسلام آباد، 12  جون ( اے پی پی ): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران کے چیئرمین سینیٹر تاج محمد آفریدی نے کہا ہے کہ سابقہ فاٹا کے انضمام شدہ علاقوں میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنے کیلئے ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ کو اعتما د میں لیاجائے اور ایسے منصوبے ترجیح بنیادوں پر جلد از جلد مکمل کیے جائیں جس سے علاقے میں ترقی و خوشحالی کیلئے نئی راہیں ہموار ہوں۔
سیفران کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سینیٹر تاج محمد آفریدی نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے بعد کی صورتحال انتہائی اہم ہے اور جو وعدے فاٹا کے عوام کے ساتھ کیے گئے تھے ان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بجلی اور امپورٹ پر ٹیکسوں میں فاٹا کے عوام کو چھوٹ دی گئی تھی لیکن ایف بی آر نے فاٹا کے عوام کو یہ سہولت نہیں دی اور فاٹا کے عوام پچھلے کچھ عرصے سے ان ٹیکسوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں اور ان کا روزگار خطرے میں پڑا ہوا ہے۔

سینیٹر اورنگزیب خان اورکزئی نے کہا کہ اگرچہ فاٹا کا انضمام ہوگیا ہے لیکن حقیقی معنوں میں کام صفر ہے انہوں نے تجویز دی کہ کمیٹی ان تمام اضلاع کا دورہ کرے جو انضمام کے بعد خیبر پختونخواہ کا حصہ بنے ہیں۔

سینیٹر شمیم آفریدی نے کہا کہ سابقہ فاٹا کے اکثر علاقوں میں سکول، کالجز اور ہسپتالوں پر قبضے ہیں اور ان قبضوں کو چھڑوانے کی ضرورت ہے اس سے عوام کو کافی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔

کمیٹی کو قبائلی اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت مختص فنڈ زکے علاوہ ایف بی آر اور ٹیسکو کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔

سیفران کے وزیر شہر یار آفریدی نے کہا کہ فاٹا کے ساتھ ماضی میں ظلم ہوا ہے تاہم ہماری حکومت فاٹا کے مسائل سے آگاہ ہے اور ان کو حل کرنے کیلئے ہر ممکن کوششیں کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے ای ٹینڈرنگ کو لاگو کیا جائے جس سے شفافیت آئے گی۔

 ٹیکسو حکام نے بتایا کہ فاٹا میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔حکام نے بتایا کہ فاٹا کو بجلی کی 8 گھنٹے بلاتعطل فراہمی جاری رہے گی۔ انہوں نے بجلی کے شعبے میں جاری منصوبوں پر بھی کمیٹی کو آگاہ کیا۔ایف بی آر کے حکام نے بتایا کہ خام مال اور مشینری پر استثنیٰ دے دیا گیا ہے جبکہ گھی اور سٹیل کی صنعتوں کے علاوہ باقی شعبوں کو بھی سیلز ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔کمیٹی نے بجلی اور صنعتی شعبے کو دی جانے والی مراعات پر ایف بی آر سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جب فاٹا کے انضمام کا فیصلہ ہوا تو حکومت نے 5 سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دیا تھا لیکن ایف بی آر نے اس پر عملدرآمد نہیں کیا اور اب مزید ٹیکس لگائے جارہے ہیں جس سے فاٹا کے عوام میں بے چینی بڑھے گی۔

 وزیر سیفران نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ کمیٹی کے جو تحفظات ہیں انہیں دور کیا جائے گا۔

 سینیٹرزعطاالرحمن، اورنگزیب خان،حاجی مومن خان آفریدی، ہدایت اللہ، ہلال الرحمن، محمد ایوب، سردار محمد یعقوب خان ناصر کے علاوہ وزیر مملکت سیفران شہریار آفریدی اور دیگر اعلیٰ حکام نےاجلاس میں شرکت کی۔

وی این ایس اسلام آباد