قائمہ کمیٹی کو لوڈ شیڈنگ اور ادائیگیوں پر بریفنگ

0
379

اسلام آباد، 13 فروری (اے پی پی ):سینیٹ قائمہ کمیٹی پانی و بجلی کے چیئرمین سردار یعقوب خان کی زیر صدرات میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں چیئرمین کمیٹی سردار یعقوب خان نے کہا کہ ملک بھر میں بجلی کے بلوں کی وصولی یقینی بنانے کے لیے پولیس اور دوسرے اداروں سے مدد لی جائے۔ جہاں بل وصول نہیں ہوتے وہا ں لوڈشیڈنگ لازمی کی جائے ۔ لیکن جہاں وصولیاں ہورہی ہیں، ادائیگیاں نہ کرنے والوں کی سزا سب کو نہ دی جائے۔

وزارت کے حکام نے بتا یا کہ جہاں لائن لاسز زیادہ اور ریکوری کم ہے ، وہاں بجلی بند کی جاتی ہے ۔ ادائیگی نہ کرنے والے صارفین کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی جاتی ہے۔ ایک لاکھ سے زائد ریکوری کے کیسز نیب کے حوالے بھی کیے ہیں۔ گولاڑچی میں ایک سال سے زائد عرصہ سے بجلی بند ہونے کا انکشاف ہوا۔45لاکھ 50ہزار کے بقایا جات ہیں ۔ 107افراد کے بجلی کے کنکشن بحا ل نہیں کیے گئے ۔ ایک سال سے سنجیدہ کوششیں شروع ہیں ۔

ہزارہ میں 2ایکیسین 4ایس ڈی اوز کو فارغ کرنے کے نوٹس بجھوائے ہیں۔ حیسکو اور پیسکو کے حکومتی بقایاجات 72ارب روپے کا معاملہ حکومت سندھ کیساتھ حل ہوگیا ہے۔ 6حکومتی اداروں کے بجلی کے میٹروں پر اے ایم آئی لگادی گئی ہے۔ سیپکو کے 7لاکھ کنیکشنز میں سے 3لاکھ سے زائد بغیر میٹر کے ہیں۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ اگر چند لوگوں کے بقایاجات ہیں تو پوری آبادی کو سزا کیوں دی جارہی ہے۔ قانونی کارروائی کی بجائے غریبوں کو کیوں سزا دی جارہی ہے۔ کیسی مساوات ہے کہ جس کا بل54روپے اس کی بجلی کٹ گئی اور جس کا بل 2لاکھ سے زائد ہے سزا تو اس کی بنتی ہے ، ڈفالٹر کے خلاف کارروائی کرے اور عام لوگوں کو سزا نہ دیں۔

سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے کہا کہ تمام کمپنیوں کی اپنی فورس اور مجسٹریٹ ہونے چاہییں ۔ ریکوری کو آؤٹ سورس کیا جانا چاہیے۔ جس طرح چنگیوں کا معاملہ آؤٹ سورس کرنے سے بہتر ہوا۔ سم والے میٹر لگائے جائیں۔ ایکٹ میں تبدیلی لائی جائے اور فیصلے خود مختار کمپنیوں کے بورڈ ز کرے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر تمام تقسیم کا ر کمپنیوں کو الگ فورس دے دی جائے تو پھر بھی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہمارے علاقے میں پولیس کارروائی نہیں کرتی ۔ ایف سی سے مدد لی جاتی ہے۔ سینیٹرنثا رمحمد نے کہا کہ تمام شہریوں پر بوجھ ڈالنا زیادتی ہے۔پشاور شہر کی ایک آبادی کے گھروں کے بل 22، 23لاکھ بنا کر صنعتوں کے نقصانات بھی ڈالے جارہے ہیں۔ مالاکنڈ ڈویژن میں 97فیصد وصولی کے باوجود اور 14گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے ۔اٹھارویں ترمیم کے بعد ٹرانسمیشن لائن کے لیے کوئی میکنزم نہیں۔ نظام دس دس سال پرانہ ہے اور اوور لوڈڈ بھی ہے۔

سینیٹر عطاء الرحمٰن نے کہا کہ کمپنیاں اپنے ملازمین کی نگرانی کی جائے۔ سینیٹر غوث محمد نیازی نے کہا کہ لوگوں میں شعور اجاگر کریں اور سیاسی جرائت مندی سے فیصلے کریں۔ سینیٹر احمد حسن نے تحصیل تمیر گڑھ ضلع لوئر دیر کی 4یونین کونسلوں کی ایک لاکھ آبادی کو بجلی فراہمی کا معاملہ اٹھایا جس پر یقین دہانی کرائی گئی کہ بجلی فراہمی کے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت دی کہ اگلے اجلاس میں تمام کمپنیوں کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ کمیٹی نے ہدایت دی کہ فیسکو کے ملازم کی تنخواہ کا معاملہ عدالتی فیصلے کو مد نظر رکھ کر کیا جائے۔ بلوچستان میں نئے گرڈ اسٹیشنوں کے بارے میں بتایا گیا کہ سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں 2نئے گرڈ اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ موسیٰ خیل میں 33کے وی گرڈ اسٹیشن کو 132کے وی بنانے کے لیے پی سی ون بنالیا گیا ہے۔ 18گرڈ اسٹیشنوں میں سے 13کو توسیع دے دی ہے ۔ 6پر کام جاری ہے ۔ بلیدہ کے لیے بھی پی سی و ن بن گیا ہے۔ فنڈز کا انتظار ہے۔ ایران سے 70میگا واٹ بجلی مل رہی ہے۔ گوادر میں 300میگاواٹ کا آئی پی پی پاور پلانٹ پر کام شروع ہے۔ ایران پر پابندیوں کی وجہ سے ایرانی بنکوں کے ساتھ معاہدوں میں مشکلات ہیں ۔ دوبارہ مذاکرات شروع ہیں۔ پابندیاں ختم ہونے کے بعد ایران سے مزید بجلی خریدیں گے۔مالاکنڈ ڈویژن میں نظام کی اپ گریڈیشن کے لیے کام شروع ہے۔ آئیسکو میں 2ہزار خالی اسامیوں پر بھر تیاں میرٹ کے ذریعے جلد کی جائیں گی۔ کمیٹی کے اجلا س میں سینیٹر تاج حیدر ، نثار محمد ، احمد حسن ، غوث محمد خان نیازی،عطاالرحمن ،نعمان وزیر خٹک، کے علاوہ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت اور بجلی کمپنیوں کے سربراہان نے شرکت کی ۔

اے پی پی / سہیل/وی این ایس اسلام آباد