افغان صحافتی وفد کا دورہ اے پی پی

142

اسلام آباد ،مارچ 13 (اے پی پی): افغانستان کے معروف خبری ادارے طلوع کے سینئر صحافی خپلواک صافی نے کہا ہے کہ
پاکستان اور افغانستان کے مابین مسائل اور اختلافات کی ذمہ داری کسی تیسرے فریق پر ڈالنے کی روش ختم ہونی چاہئے۔ دونوں ممالک اپنے اختلافات حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور عام لوگ اپنی اپنی قیادت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اچھے پڑوسیوں کی طرح رہنے کے لئے حالات سازگار بنائیں۔
پیر کو افغانستان کے معروف نشریاتی اداروں سے تعلق رکھنے والے سینئرصحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ قومی خبررساں ادارہ اے پی پی کے دورہ کے موقع پر خپلواک صافی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی معاملات پر اختلافات کے وجود سے انکار نہیں لیکن ذرائع ابلاغ میں مناسب حساسیت کے ذریعے دونوں برادر ممالک کے مابین بڑھتی ہوئی غلط فہمیوں کو کم کیا جاسکتاہے۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ افغانستان کے لوگ اس بات کو غور سے نوٹ کرتے ہیں جب افغانستان میں ہونے والی جھڑپوں میں سرکاری فوج کے شہید ہونے والے سپاہیوں کوپاکستانی میڈیا میں لفظ©’ ہلاک‘ سے یاد کیا جاتاہے۔
انہوں نے کہا کہ چمن اور طورخم سرحد کی بندش پر افغان عوام کو بجا طور پر تشویش ہے ۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے اور بھی شکایات ہیں لیکن اگر ذرائع ابلاغ اس بارے میں حساسیت کا مظاہرہ کریںتو عوام کی شکایات سے ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کا راستہ روکا جا سکتاہے۔
خپلواک صافی نے اس تاثر کو رد کیا کہ دنوں ممالک میں کشیدگی بڑھانے کی ذمہ دار کوئی تیسری طاقت ہے۔ انہوںنے کہا کہ دونوں ممالک اپنے کئے کے خود ذمہ دار ہیں لیکن اعلیٰ سطح پر ہونے والے فیصلوں کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ دونوں ممالک میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنے معاملات بہتر انداز میں طے کریں اور اچھے پڑوسیوں کی طرح رہیں کیونکہ دونوں ممالک کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلق کے بغیر امن سے رہنا مشکل ہے۔
اس سے قبل جب افغان صحافیوں کا وفد معروف پاکستانی صحافی رحیم اللہ یوسفزئے کی معیت میں اے پی پی پہنچا تو ادارے کے سربراہ مسعود ملک اور دیگر اعلی حکام نے ان سے ملاقات کی۔ دوستانہ ماحول میں ہونے والی ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اس طرح کے وفود کے تبادلے سے عوامی سطح پر رابطوں کے بہترین ثمرات حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
احسان، اے پی پی / خالد /وی این ایس اسلام آباد