اورینج لائن: منصوبہ سے نہ ماحول کو خطرہ ہے نہ آثار قدیمہ کو، عالمی رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل

0
200

اسلام آباد ، 3 اپریل (اے پی پی ): سپریم کورٹ میں لاہور اورینج لائن منصوبے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران نیس پاک کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کرلئے ہیں۔ ماس ٹرانزٹ کے وکیل مخدوم علی خان کل اپنی بحث کا آغاز کریں گے۔
جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے مقدمہ کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران نیس پاک کے وکیل شاہد حامد نے اپنے دلائیل مکمل کئے۔ عدالت نے حکم دیا تھا کہ لاہور کے ماحول اور قدیم ورثہ پر اورینج لائن منصوبے کے اثرات سے متعلق بین الاقوامی معیار کے تین اداروں سے رائے لے کر عدالت کو آگاہ کیا جائے۔
آج نیسپاک کے وکیل شاہد حامد نے تینوں اداروں کی رپورٹس پر مبنی دلائی دئےے اور کہا کہ تینوں رپورٹس کے مطابق اورینج منصوبہ نہ ماحول کے لئے خطرہ ہے اور نہ راستہ میں آنے والی آٹھا تاریخی اثار کے لئے۔
انہوںنے کہا کہ دنیا کے ایک سو چالیس ممالک میں ریل چلتی ہے لیکن اس طرح کے مسائل کہیں بھی نہیں جس طرح کے پاکستان میں بنائے جاتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ بھارت میں ریل کے راستے میں کئی تاریخی اور مذہبی مقامات آئے ہیں لیکن عدالتوں نے عوامی مفاد کے تحت ان منصوبوں کا آگے بڑھانے کی اجازت دی ہے۔
جسٹس شیخ عظمت سعید نے سماعت کے دوران کہا کہ ایک قدیم عمارت کی خاطر لاکھوں لوگوں کو بہتر سفری سہولت سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
شاہد حامد نے کہا کہ اورینج ٹرین میں پانچ بوگیاں ہوںگی اور ہر بوگی میں دو سولوگ سفر کرسکتے ہیں اس طرح ہر ٹرپ میں ایک ہزار لوگوں کو فائدہ ہوگا۔
اے پی پی، احسان، خالد اعوان/وی این ایس اسلام آباد