سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس

0
235

اسلام آباد، 3 مئی(اے پی پی ): سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت بدھ کوپارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا جس میں کنڑولر جنرل آف اکاﺅنٹس ، آڈیٹر جنرل آف پاکستان ، پاکستان منٹ ، قومی بچت اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اداروں کے مختص اور استعمال بجٹ کے معاملات کے علاوہ کارپوریٹ ری ہبیلیٹیشن بل 2017 کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔
قائمہ کمیٹی کو سیکرٹری خزانہ طارق باجوہ نے بتایا کہ کارپوریٹ ری ہبیلیٹیشن بل2017 کے حوالے سے جو کمیٹی قائم کی گئی تھی اس نے چار ترامیم تجویز کی تھیں اس کی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے آئندہ اجلاس میں پیش کر دی جائے گی جس پر قائمہ کمیٹی نے معاملہ آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا ۔
کنڑولر جنرل آف اکاﺅنٹس کے مختص اور استعمال بجٹ کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کے 15 فیلڈ اکاﺅنٹس آفیسر ہیں ۔ ادارے کی کل منظور شدہ پوسٹوں کی تعداد8 ہزارہے جبکہ 6142 ملازمین کا م کر رہے ہیں باقی پوسٹیں خالی ہیں ۔ مالی سال 2016-17 کےلئے 5.6 ارب روپے مختص کیے گئے تھے ۔ اور اپریل تک 68 فیصد بجٹ خرچ کیا جا چکا ہے ۔ جس پر اراکین کمیٹی نے کہا کہ ادارے اخراجات کا تسلسل رکھیں آخری مہینے میں بہت زیادہ بجٹ خر چ کرنا سوالیہ نشان بن جاتا ہے ۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ادارے ماہورا اپنے بجٹ اخراجات کا جائزہ لیں تو بہتری آ سکتی ہے ۔
قائمہ کمیٹی کو آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے مختص اور استعمال بجٹ کی تفصیلا ت سے بھی تفصیلی آگاہ کیا گیا ۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 4.12 ارب روپے مالی سال 2016-17 کےلئے مختص کیا گیا تھا اور 28 فروری تک 62 فیصد بجٹ خرچ کر لیا گیا ہے ۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ قائمقام آڈیٹر جنرل کےلئے سینئر ترین افسر کو قائمقام آڈیٹر مقرر کیا جاتا ہے ۔
سینیٹر سردار فتح محمد محمد حسنی نے کہا کہ بہت سے اداروں میں اداروں کے سربراہان کی تقرری قائمقام افسران سے کی گئی جس کی وجہ سے اداروں کی کارکردگی پر فرق پڑتا ہے اور حکومت کا تاثر بھی صحیح قائم نہیں ہوتا ۔
قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان منٹ لاہور کا بجٹ 5.36 ارب روپے مختص تھا جس میں سے 2.86 ارب روپے فروری تک خرچ کر لیے گئے ہیں ۔ پاکستان منٹ سکوں کے علاوہ مختلف میڈلزبھی تیا رکرتا ہے ۔
قومی بچت کے اداروں کے مختص بجٹ کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2.71 روپے بجٹ مختص تھا جس میں سے 1.56 ارب روپے خرچ کر لیے گئے ہیں ۔ اداروں نے 290 ملین اضافی بجٹ بھی حاصل کیا ہے ۔
ڈی جی سنٹر ل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ آئی ٹی شعبے کی اپ گریڈیشن پر کام ہورہا ہے 2 ارب روپے کے رجسٹرڈ پرائز بانڈ مارکیٹ میں فروخت ہوئے لوگوں کا رجسٹر ڈ بانڈز خریدنے کا رجحان اچھا ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمپنیوں میں معذور افراد کی تقرری کےلئے کوٹہ مختص کیا جائے یہ ہم سب کا اخلاقی فرض ہے ۔ میں نے سرمایہ کاری بورڈ میں بہت سے معذور افراد کو بھرتی کیا ان کی کارکردگی بھی بہت اچھی ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ادارہ معذوروں کی فلاح و بہبود و بہتری کےلئے کوئی سکیم بھی شروع کرے ۔
قائمہ کمیٹی کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ مالی سال 2016-17 کے لئے 115 ارب روپے مختص کیے گئے حکومت پاکستان نے 97 ارب روپے جبکہ ڈونرز نے 18 ارب روپے دیئے ہیں۔ یہ ون لائن بجٹ ہوتا ہے ، ہمار ا ایک بورڈ ہے جو اخراجات کی منظوری دیتا ہے اور حکومت سے ملنے والی فنڈز کا آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے آڈٹ بھی ہوتا ہے ادارے کا ایک انٹرنل آڈٹ سسٹم بھی ہے جو آڈٹ رپورٹ بورڈ کو فراہم کرتا ہے ۔ فروری تک 51 فیصد بجٹ خرچ ہو چکا ہے ۔ قائمہ کمیٹی نے انتظامی اخراجات کو کم کرنے کی سفارش کر دی ۔
اراکین کمیٹی نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈزسے غریب عوام کو ملنے والی امداد میں ہونے والے فراڈ کے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 1.24 لاکھ کیسز میں شکوک تھے جن کو بلاک کر دیا گیا تھا ان کو چیک کرنے کےلئے انکوائریاں ہو رہی ہیں اور ملوث ملازمین کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جارہی ہے ۔
سینیٹر سردار فتح محمد محمد حسنی نے کہا کہ بلوچستان میں بے شمار لوگوں کی شکایات آرہی ہیں لوگوںکو پیسے نہیں ملتے انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی ون ایجنڈا رکھ کر فراڈ کیسز و دیگر معاملات کا تفصیل سے جائزہ لے ۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پہلے پوسٹ آفس کے ذریعے امداد دی جاتی تھی اب جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے امداد دی جارہی ہے سمارٹ کارڈ کا اجراءکیا ہے اور بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے معاملات میں مزید شفافیت آئے گی ۔ کل 2300 ملازمین ہیں اور421 دفاتر ہیں ۔
قائمہ کمیٹی کے دوسرے سیشن میں کمپنیز بل 2017 کی تمام شقوں کا جائزہ مکمل کر لیاگیا ۔ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میںآئی کیپ اور آئی سی ایم اے نے کمپنیز بلز 2017 بارے بعض ترامیم کی تجویز بھی دی ۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جتنی بھی تجاویز قائمہ کمیٹی نے اس بل کے حوالے سے ترتیب دیں ہیں اور سیکورٹیز ایکسچینج کمیشن نے تجاویز مرتب کیں ہیں سب کو شامل کر کے ایک ڈرافٹ رپورٹ تیار کی جائے جس کا کل کے اجلاس میں تفصیل جائز ہ لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ تمام کمپنیوں جن کے ملازمین کی تعداد100ہو اس کمپنی میںمعذور افراد کےلئے کوٹہ مقرر کیا جائے اور یہ کمپنیز بل میں شامل کیا جائے ۔
اجلاس میں سینیٹرز الیاس احمد بلور، سردار فتح محمد محمد حسنی اور عثمان سیف اللہ خان، کامل علی آغا کے علاوہ سیکرٹری خزانہ ،چیئرمین ایس ای سی پی ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ، کنڑولر جنرل آف اکاﺅنٹس ، سنٹرل ڈائریکٹو ریٹ آ ف نیشنل سیونگز کے حکام نے شرکت کی ۔
اے پی پی /سعیدہ ا ن م