سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پیڑولیم کا اجلاس

0
228

اسلام آباد، جولائی 24(اے پی پی): سینیٹ قائمہ کمیٹی پٹرولیم کے چیئرمین سینیٹر میر اسرار اللہ خان زہری نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوے کہا کہ قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ بلوچستان کا زیادہ تر علاقہ قدرتی گیس کی سہولت سے محروم ہے ۔ایل پی جی کے ایئرمکس پلانٹس بھی نہیں لگائے جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ احمد پور شرقیہ میں ٹینکر حادثہ سے 230 قیمتی جانوں کا نقصان افسوس ناک ہے ۔ سخت ترین اقدامات اٹھائے جانے چاہیں۔ اجلاس میں چیئرپرسن اوگرا عظمیٰ عادل نے بتایا کہ ٹینکر شیل کمپنی کا ہے ، ٹینکر میں پیٹرول اٹھانے کی صلاحیت 50ہزار لیٹر نہیں تھی ۔اوگرا نے وفات پا جانے والوں میں فی کیس 10لاکھ اور زخمی ہونے والوں میں فی کس 5لاکھ ادا کیا ہے۔ کمپنی کو آرڈیننس کے تحت ایک کروڑ کا جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔ تھرڈ پارٹی انسپیکٹر کے ذریعے ٹینکرز کو 5سالوں میں اوگرا معیار پر لانے کا معاہدہ ہوا جس پر ابھی تک عمل نہیں ہوا۔ ایکسل وزن بھی قواعد کے تحت نہ تھا اور محکمہ دھماکہ خیز مواد و بارود کالائسنس بھی جعلی تھا۔ٹینکر ز کی کل تعداد میں سے 40فیصد کی حالت بہتر نہیں ۔صرف 38 فیصد کے پاس فٹنس سرٹیفیکٹ اور این ایچ اے موٹرویز پولیس کے این او سی 44فیصد کے پاس ہے۔ تھرڈ پارٹی انسپیکٹر مقرر کردیئے گئے ہیں۔ معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے از خود نوٹس لینے پر عدالت میں ہے اور 26جولائی کی تاریخ سماعت ہے۔ اوگرا کے 2009میں بنائے جانے والے رولز پر عمل درآمد نہیں ہورہا ۔ ادارہ جاتی کمزوریاں بھی ہیں ۔سینیٹر نثار محمد نے کہا کہ اوگرا اپنا کردار درست ادا نہیں کررہا ۔ حادثات اور مستقبل کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ تمام متعلقہ فریقین اور وزارت پیٹرولیم کا قائمہ کمیٹی کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے میکنزم بنانے کی ضرورت ہے۔ سینیٹر سردار اعظم خان موسیٰ خیل نے کہا کہ محکمانہ نظام موجود نہیں ۔سینیٹر سردار فتح حسنی نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے ذمہ داران کا تعین کرکے ایف آئی آر درج کرائی جائے۔ سینیٹر باز محمد نے کہا کہ غفلت میں ملوث ذمہ داران کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج کروائی جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ عوام میں بھی آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرپولیس نے فرض ادا نہیں کیا ۔ لوگوں نے بھی احتیاط نہیں برتی۔ سینیٹر روبینہ عرفان نے کہا کہ موٹروے پولیس کے متعین کردہ لوڈ سے زیادہ ٹینکرز پر پابندی ہونی چاہیے اور انسپکٹرز کی بھی تعلیم اور تجربے کا خیال رکھا جائے۔ سینیٹر میر یوسف بادینی نے کہا کہ صلاحیت سے زیادہ لوڈ اور کاغذات مکمل نہ رکھنے پر کارروائی کی جائے۔ سیکرٹر ی وزارت نے کہا کہ کل تمام فریقین کے ساتھ اجلاس منعقد ہورہا ہے جس میں بہتر حل نکال لیا جائے گا۔ آئل ٹینکرز ایسوسی ایشنز نے ہڑتال کی دھمکی دی ہے۔ حکومت ڈیز ل کی طرح پیٹرول کو بھی پائپ لائن کے ذریعے ترسیل پر سوچ رہی ہے۔ کئی اداروں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ممبران کمیٹی نے کہا کہ ہڑتال پر توجہ نہ دی جائے۔ ٹینکرز ایسوسی ایشنز کے حقوق کا تحفظ ہو لیکن قوم و ملک کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہیے ۔ سینیٹر تاج آفرید ی نے کہا کہ حادثات روکنے میں متعلقہ اداروں کی ناکامی ہے۔ لیکن ملکی نظام کی کمزوریاں بھی دور کرنے کی ضرورت ہے۔کمیٹی میں فیصلہ کیا گیا کہ قابل عمل میکنزم کے لیے تمام فریقین کا مشترکہ اجلاس آئندہ 15دنوں میں منعقد ہوگا۔ وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ایف آئی آر درج ہوچکی ہے ۔پنجاب حکومت انکوائری کررہی ہے بڑا معاملہ ہے حکومتی اقدامات سے ان کیمرہ اجلاس میں تفصیلات فراہم کریں گے۔ مستقل حل کی ضرورت ہے۔ سینیٹر یوسف بادینی نے تجویز دی کہ کوہلو ، بارکھان لورالائی میں آئل ٹینکرز پر ٹریکرز کی پابندی ختم کی جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے بھی لکھ کر دیا ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ سیکرٹر ی پیٹرولیم ، چیف سیکرٹری بلوچستان سے رابطہ کرکے آگا ہ کریں۔ کمیٹی اجلاس میں سینیٹرز سردار فتح محمد محمد حسنی، نثار محمد مالاکنڈ ، باز محمد خان، سردار محمد اعظم خان موسیٰ خیل ، یوسف بادینی ، تاج آفریدی، روبینہ عرفان کے علاوہ وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی ، سیکرٹری وزارت پیٹرولیم ، چیئرپرسن اوگرا او ر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔
اے پی پی /سہیل