کو ئٹہ ۔09اگست (اے پی پی ) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ طالب علم مستقبل کے معمار ہیں جو تاریخ کا دھار ا اور طوفانوں کا رخ موڑ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں،بلوچستان پاکستان کا ایک ایسا مردم خیز خطہ ہے جس نے ایسی بڑی بڑی شخصیات کو جنم دیا ہے جن کے علم صلاحیتوں اور کارناموں کا دائمی نقش تاریخ کے اوراق پر ثبت ہے ،دنیا آج ایک بار پھر ہماری طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہی جس میں وطن عزیز کے دیگر خطوں کے علاوہ بلوچستان کا کردار کلیدی ہے قومی تاریخ کے اس نادر اور عظیم الشان مرحلے پر بلوچستان کے نوجوان ایک ایسا کردار ادا کرنے جارہے ہیں جس سے یہ صوبہ اور وطن عزیز ہی نہیں پوری دنیا فخرسے ان کی طرف دیکھے گی،ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو جامعہ بلوچستان کے 14ویں کانووکیشن کی تقریب سے بحیثیت مہمان خاص خطاب کرتے ہوئے کیا۔صدر مملکت نے کہا کہ طلبہ کی چمک دار پیشانیوں اور تابندہ چہروں پر پاکستان کے شاندار مستقبل کی جھلک صاف دکھائی دے رہی ہے ،انہی طلباءکے درمیان ہی وہ خوش قسمت نوجوان بھی موجود ہےں جو ملک کے مستقبل کو شاندار بنانے کی قومی جدوجہد کی قیادت کریں گے ۔ہمیں بلوچستان کے نوجوان کی صلاحیتوں پر اعتماد اور یقین ہے کہ وہ وطن عزیز کی خدمت کے لیے سونپی گئی ذمہ داریوں پر بہ احسن وخوبی پورا اتریں گے ،انہوں نے کہا کہ جامعہ بلوچستان اور صوبے کے دیگر تعلیمی اداروں کی ذمہ داریوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوچکا ہے ،توقع ہے کہ صوبائی حکومت ،وفاق اور دیگر قومی اداروں کے تعاون سے بلوچستان کے تعلیمی ا دارے اپنا کردار بخوبی ادا کریں گے ۔انہوں نے طلباءکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے زندگی کے بہتری ماہ وسال علم کے حصول میں گزارے ہیں اور آج یہ محنت رنگ لارہی ہے جس پر میں آپ اور آپ کے والدین اور اساتذہ کرام کو مبارکباد دیتا ہوں اور مستقبل میں آپ کی مزید کامیابیوں اور خوشحالی کے لیے دعا گوہوں ،آج آپ کو جو کامیاب حاصل ہوئی ہے اس کا راز مسلسل محنت عزم وہمت اور کچھ کر گزرنے کے جذبے میں پنہاں جس کے بل بوتے پر آپ مختلف امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اس منزل تک پہنچے ہیں تعلیمی مراحل کی اتنہا پر پہنچ کر انسان بعض اوقات اطمینان کا سانس لیتے ہوئے یہ سوچتا ہے کہ اب مسلسل محنت اور روز روز کے امتحانون سے جان چھوٹ گئی بظاہر تویہ احساس درست ہے لیکن حقیقت ہے کہ تعلیم حاصل کرنے اور سیکھنے کا زمانہ کبھی ختم نہیں ہوتا،انہوں نے کہا کہ تعلیم کے مختلف مراحل کی تکیمل کا مطلب یہ ہے کہ انسان مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ابتدائی تربیت مکمل کرکے میدان عمل میں داخل ہوچکا ہے ،صدر مملکت نے طلباءسے کہا کہ آئندہ زندگی میں اپنی زمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے دنیا میں جنم لینے والے نئے رجحانات مختلف علوم وفنون میں ہونے ولای ترقی اور متعلقہ تحقیق پر ہمیشہ گہری نگاہ رکھیں تاکہ چیلنجوں سے نٹتے ہوئے انسان کسی بھی مرحلے پر کمزوری محسوس نہ کرےں۔انہوں نے کامیاب طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ اپنی عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد مزید محنت سے کام لیں گے اور اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں پہلے سے بھی بڑھ کر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے انہوں نے کہا کہ زندگی جہد مسلسل ہے جس میں محنت سے تھک کر بیٹھ جانے والے اور مشکلات سے پریشان ہر کر بددل ہوجانے والے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے ،غیور بلوچوں کی خداد دانش کو شاعر مشرق نے بہتر الفاظ میں پرویا ہے ،انہوں نے کہا کہ تاریخ کے مختلف مراحل پر قوموں اور طبقات کی زندگی میں آزمائشیں اور امتحان آتے رہتے ہیں جو لوگ ان مشکلات کو زندگی کا روگ بنا کر ایک خاص ذہنی کیفیت میں چلے جاتے ہیں ان کے لیے آگے بڑھنا مشکل ہوتا ہے لیکن جو لوگ ان مشکلات سے سبق سیکھ کر آگے بڑھتے جاتے ہیں ان کا راستہ دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی ،انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بلوچستان کے ذہین نوجوانوں ،خاص طور پر خواتین پبلک سروس کمیشن اور دیگر اعلیٰ مناسب کے لیے امتحانات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرکے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں جس پر ہمیں دلی مسرت ہے اور کامیابی کا راستہ یہی ہے ،صدر مملکت ممنون حسین نے طلباءسے کہا کہ وہ اپنے گردو پیش کے حالات ،تاریخ کے دھاروں اوردنیا میں جنم لینے والے نت نئے رحجانات سے خود کو آگاہ رکھیں تاکہ بدلتی ہوئی دنیا کے سیاسی سماجی اور اقتصادی محاذ پر انہیں پریشانی کا سامنا نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ قومی ترقی اور استحکام کے لیے ہمیشہ چوکس رہیں اور حالات حاضرہ پر نظر رکھتے ہوئے قوم کی بہبود کے لیے تفویض کی جانے والی ہر ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے ہر وقت تیار رہیں ،انہوں نے کہا کہ یہ اللہ کا خاص فضل ہے کہ گوادر پورٹ اوراقتصادی راہداری سے منسلک دیگر منصوبوں کی صورت میں ہمیں دنیا سے گھلنے ملنے کے تاریخی مواقع میسر آرہے ہیں ان مواقعوں سے فائدہ اٹھانے میں ہمیں دیر نہیں کرنی چاہیے ،کیونکہ اپنے معاشرتی دائروں سے باہر جھانکے میں جھجک محسوس کرنے والے معاشرے ہم عصر دنیا سے پیچھے رہ جاتے ہیں ہمیں نہ صرف اپنے حال اور مستقبل دنوں کو تابناک بنا کر اپنی ترقی کے سفر کو تیز کرنا ہے بلکہ اس سلسلے میں عالم انسانیت پر عائد ہونے والی ذمہ داریاں بھی ادا کرنی ہیں تاکہ ہم اپنے حال اورمستقبل دونوں کو تابناک بناسکیں،صدر ممنون حسین نے طلباءسے کہا کہ قائداعظم کی نصیحت کے مطابق خود کو عملی سیاست سے لا تعلق رکھیں لیکن قومی ترقی ،استحکام اور سلامتی کے لیے کردار ادا کرنے سے کبھی گریزنہ کریں۔انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں ہما را وطن اور خاص طور پر بلوچستان جس طرح پوری دنیا سے زمینی بحری اور فضائی راستوں کے ذریعے منسلک ہونے جارہا ہے اس کے پیش نظر ضروری ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو بھر پور طریقے سے اجاگر کرکے استعمال میں لائیں،اس سلسلے میں بلوچستان کی معدنیات ،صنعتی پیداوار ثقافت اورتاریخی ورثے اور سیاحت کے فروغ کو اپنی ترجیح بنانے سے مقاصد کا حصول آسان ہوجائے گا،اس لیے بلوچستان کے تعلیمی ادارے خاص طور پر جامعہ بلوچستان سیاحت ہوٹلنگ ،خوردونوش کے مقامی رحجانات اور ثقافت کو پیشہ ورانہ طریقے سے ترقی دینے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تاکہ پاک چین اقتصادی راہداری کی فعالی کے بعد پیدا ہونے والے مواقعوں سے بھر پور فائدہ اٹھایا جاسکے ،انہوں نے کہا کہ ایوان صدر کے اخراجات میں بچت کرکے ایک خطیر رقم نیشنل یونیورسٹی آف مارڈرن لینگیویجز (NUML)کے حوالے کی گئی ہے تاکہ گوادر میں کیمپس قائم کرکے بلوچستان کے بچوں کو چینی زبان سکھائی جاسکے ،اقتصادی راہداری کی فعالی کے بعد مقامی آبادی کو اس کے ثمرات پہنچانے کے لیے اس طرح کے اقدامات کے تسلسل کی ضرورت ہے اور یہ امر باعث اطمینان ہے کہ یہ معاملہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں جس پر پیش رفت جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ تعلیم اور تربیت لازم وملزوم ہے تربیت اچھی ہوگی تو آئندہ کی نسلیں صیحح خطوط پر استوار ہوگی انہوں نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان میں امن وامان کے مخدوش صورتحال کے اثرات جامعہ بلوچستان پر بھی تھے تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے اصلاحات کرکے آج ادارے کو مثالی درس گاہ بنا دیا ہے ،انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو مغرب کی اندھی تقلید نہیں کرنی چاہیے بلکہ اپنے اسلامی رہنماءاصولوں پر گامزن رہتے ہوئے علم وترقی اور جستجو کو اپنانا چاہیے تاکہ آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں جائیں آپ کا لباس اور طرز عمل اسلامی جمہوریہ پاکستان شایان شان ہو۔صدر ممنون حسین نے کامیاب طلباءکو مبارکباد دیتے ہوئے جامعہ بلوچستان کی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا ۔ اس سے قبل صدر مملکت نے مختلف شعبوں میں کامیاب طلباءوطالبات میں گولڈ میڈل اور اسناد تقسیم کیں ،پروگرام کے آغاز میں جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال نے یونیورسٹی کی کارکردگی اصلاحات اور نئے متعارف کرائے جانے والے پروگرامز پر تفصیلی روشنی ڈالی تقریب سے گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے بھی خطاب کیا ۔تقریب میں صوبائی وزراء،اراکین اسمبلی اور اعلیٰ آفیسران سمیت والدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔(ش ر)











