سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس

40

اسلام آباد، 14ستمبر ( ا پ پ): سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ نے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہائرایجوکیشن ، چیف کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹر جنرل اسلام آباد کوتدارک کے لیے خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔ ق کمیٹی نے پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں فیس میں اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں اٹارنی جنرل کو طلب کرلیا اور فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن کو تیاری کے ساتھ کمیٹی اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی اور اسلام آباد کلب میں ایڈمنسٹریٹر و مینجمنٹ کمیٹی کے ممبران کی تقرری کے طریقہ کار اور گذشتہ6سالوں میں ایڈمنسٹریٹر و ممبران کی تفصیلات طلب کرلی۔ کمیٹی نے پاکستان بیت المال ترمیمی بل 2017کی ترم­یم کیساتھ منظوری دے دی۔
سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت کمیٹی کے اجلاس میں اسلام آبادگن اینڈ کنٹری کلب بل 2017،پاکستان بیت المال بل 2017،اسلام آباد کلب ایڈمنسٹریشن اینڈ مینجمنٹ بل 2017اوررئیل اسٹیٹ بل 2017کے علاوہ بلیو ایریا میں پارکنگ مسائل کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
سینیٹر محسن عزیزنے کہا کہ کئی ممالک میں رئیل اسٹیٹ اتھارٹیز قائم ہیں جو مختلف ہاو¿­سنگ سوسائٹیوں کے معا­ملات کو ڈیل کرتی ہیں، پاکستان میں رئیل سٹیٹ اتھارٹی بنانے کی اشد ضرورت ہے اور یہ بل اس لیے متعارف کرایا گیا ہے،اس بل سے صوبے بھی مستفید ہوسکتے ہیں اور وفاقی دارلحکومت کی جہاں بھی پراپرٹیز ہیں اس بل کے بدولت وفاق ان کا جا­ئزہ لے سکے گا۔
سی ڈی اے ممبر اسٹیٹ نے کہا کہ بل میں بہت سی چیزیں سی ڈی اے آرڈیننس اور ریگولیشن کے متضاد ہیں اس لیے بل کی مخالفت کرتے ہیں اور مجموعی طور پر اتفاق نہیں کرتے جس پر رکن کمیٹی سینیٹر محمد یوسف بادینی نے کہا کہ سی ڈی اے آرڈیننس عوام کی بہتری کے لیے تھا اور یہ بل بھی عوام کی بہتری کے لیے ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سی ڈی اے ایک ہفتے کے اندر بل کا تفصیلی جائزہ لے کر کمیٹی کو آگا ہ کرے اور بل کو مزید موثر بنانے کے لے بل میں مزید ترمیم بھی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چین میں جو ہاو¿سنگ سوسا­ئیٹیوں کے لیے قانون اختیار کیاگیا ہے وہ اختیار کیا جائے تو بہتری آسکتی ہے۔
کمیٹی نے سینیٹر کریم احمد خوا­جہ کے پاکستان بیت المال ترمیمی بل 2017کو ترمیم کے ساتھ منظور کرلیا۔ بل کے تحت معذور بچوں کے لیے ہر صوبے اور ڈویڑن لیول پر سینٹر قائم کیے جائیں گے۔ جس میں معذور بچوں کی نگہداشت کی جائے گی۔
کمیٹی نے تعلیمی اد­اروں میں منشیات استعمال کی بھرپور مذمت کر­تے ہوئے ہایئر ایجوکیشن ، چیف کمشنر اور انسپیکٹر جنرل اسلام آباد کو تدارک کے لیے خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔
سینیٹر کلثوم پروین اور سینیٹر میر محمد یوسف بادینی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کی واضح ہدایت کے باوجودبھی پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں نہ صرف فیسوں میں بھاری اضافہ کیا گیا بلکہ گرمی کی چھٹیوں میں اکٹھی فیسیں وصول کی گئی ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے مسئلے کے حل کے لیے آئندہ اجلاس میں اٹارنی جنرل کو طلب کرلیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پرائیوٹ تعلیمی اداروں نے عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کررکھا ہے۔ تمام سکولوں کو نوٹسز جاری کیے کہ فیسوں میں کمی کریں اور اکٹھی وصو ل نہ کریں مگر موثر پیش رفت نہیں ہوئی۔ سپریم کو­رٹ میں کیس کو سنا گیا ہے اور ستمبر کے آخر میں کیس لگ جائے گا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بلیو ایریا میں پارکنگ کے مسائل کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ رینٹ اے کار نے بلیو ایریا میں پارکنگ کے مسائل پیدا کررکھے ہیں غیر ضروری جگہ گھیری ہوئی ہے، ٹریفک کے شدید مسائل ہیں۔ جس پر کمیٹی نے آئی جی پولیس ، ایس ایس پی ٹریفک اور چیئرمین سی ڈی اے کو مسئلے کے حل کے لیے اقدامات اٹھانے کی ہد­ایت کردی۔
اجلاس سینیٹر ز میر محمد یوسف بادینی ، کلثوم پروین ، محسن عزیز ، کریم احمد خواجہ کے علاوہسیکرٹری کیڈ ، سیکرٹری کیبنٹ ڈویڑن ،سیکرٹری گن اینڈ کنٹری کلب ، ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے و دیگر اعلیٰ حکان نے شرکت کی۔
اے پی پی/ سحر ا ن م/وی این ایس،سلام آباد