قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی و صحت کمیٹی کا اجلاس

0
194

اسلام آباد، ستمبر ۸ (اے پی پی): قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی و صحت کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو خالد حسین مگسی کی سربراہی میں وزارت قومی و صحت میں منعقد ہوا۔

کمیٹی نے وزیراعظم کو اسلام آباد کے محکمہ ہیلتھ کو وزارت صحت کے ماتحت کرنے کی سفارش کردی جبکہ اعضائ کی پیوند کاری ترمیمی بل 2016 ئ کو موخر اور انسداد تمباکونوشی و عام شہریوں کو سگریٹ نوشی سے بچائو ترمیمی بل 2017 ئ کو اگلے اجلاس تک ملتوی کردیا گیا۔ کمیٹی میں اراکین کمیٹی کے علاوہ وفاقی وزیر برائے قومی صحت سائرہ افضل تارڑ وزارت کیڈٴ پمز ٴ پولی کلینک اور ڈریپ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ایم سی ایچ پمز کی پروفیسر ڈاکٹر ناصرہ تسنیم نے کہا کہ پاکستان میں اسقاط حمل سے 35 فیصد بچے ضائع کردیئے جاتے ہیں جبکہ 20 فیصد بچے پیدائش س پہلے مر جاتے ہیں جو کہ بہت زیادہ ایشو ہے اموات کا 2012 ئ میں 22 لاکھ بچے پیدائش سے قبل مر گئے ہیں۔

اس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ غیر قانونی اسقاط حمل کے خلاف ڈاکٹروں کو اپنے کردار اداکرنا ہوگا پولی کلینک کے ای ڈی ڈاکٹر زاہد لارک نے کہا کہ اسلام آباد میں صحت تین حصوں میں تقسیم ہیں کچھ حصہ کیڈ اور کچھ آئی سی ٹی ہیلتھ منسٹری کے ماتحت ہے۔ جس کی وجہ سے بی ایچ یو پر کنٹرول نہیں ہے اور وہاں پر بھی پمز اور پولی کلینک بی ایچ یو آئی سی ٹی کے ماتحت ہے جس پر وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ وفاق کے صحت کا اسی وجہ سے برا حال ہے۔ جس پر وزیراعظم نے صحت کو ایک یونٹ کے ماتہت کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس پر بہت جلد عمل درآمد شروع کردیا جائے گا۔  خالد حسین مگسی نے کہا کہ اسلام آباد کے صحت کو وزارت قومی و صحت کے ماتحت کردیا جائے تاکہ اس پر کنٹرول حاصل کیا جائے جس پر تمام اراکین کمیٹی نے متفقہ طور پر رائے دی کہ وزیراعظم کو کمیٹی کی طرف سے یہ سفارش بھیجی جائے بعد ازاں ڈریپ کی طرف سے قیمتوں کے معاملے پر بریفنگ اگلے اجلاس تک ملتوی کردی گئی۔

اے پی پی/سعدیہ