سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کااجلاس

0
269

اسلام آباد، 7دسمبر (اے پی پی ): سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس جمعرات کو چیئرمین کمیٹی سردار فتح محمد محمد حسنی کی صدارت میںمنعقد ہوا۔کمیٹی کوآگاہ کیا گیا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں گوادر سے کوئٹہ اور بسیمہ کی نئے ریلوے ٹریک کی فیز بلٹی ایک ماہ میں مکمل ہو جائے گی۔ بسیمہ سے کوئٹہ ڑوب کی فیزبلٹی میں 8 ماہ لگے گے۔پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے موقع پر چمن میں رہن رکھی گئی ریلوے کی زمین کے بقایا جات موصول نہیں ہوئے۔
چیئرمین کمیٹی نے 1970 کے ایکٹ اور سپریم کورٹ کے 2011 کے از خود نوٹس کے فیصلے پر ریلوے کی ملکیتی زمینیں ریلوے کو واپس کرنے کے حکم پر من و عن عمل کرتے ہوئے کہا کہ جس جس صوبے نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہ کیا تو وزارت ریلوے خود سپریم کورٹ میں فریق بنے اور توہین عدالت کا کیس داخل کرے، فیصلے کو کئی ماہ گزر گئے ہیں اورعملدرآمد نہیں ہوا۔
چیف سیکرٹری پنجاب بار بار بلوائے جانے کے باوجود اجلا س شریک نہیں ہو رہے۔ شالیمار ہسپتال لاہور کے متبادل سینئر ممبر ریونیوبورڈ نے زمین دینے کا وعدہ کیا عمل نہیں ہورہا۔صوبہ خیبر پختونخوانے سپریم کورٹ فیصلے پر عمل درآمد کرنا شروع کر دیا ہے ، صوبہ پنجاب عملدرآمد میں تاخیر کررہا ہے اگلے اجلاس میں سیکرٹری قانون اٹارنی جنرل پاکستان کو طلب کر لیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر بہاولپور کی کی طرف سے ریلوے کی زمین ڈی ایچ اے کو دینے کی انکوائری رپورٹ کمیٹی کو فراہم نہ کیے جانے پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پیر کے روز سیکرٹری وزارت ریلوے سے ملکر معاملہ حل کریں ورنہ کمیٹی خود فیصلہ کرے گی۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ مواصلاتی نظام میں ریلوے کا کردار اہم ہے۔ریلوے کے معاملات حل کیے جائیں وزارت خزانہ ریلوے کی چمن کی زمین کی ادائیگی کرے۔ سیکرٹری وزارت خزانہ نے رقم ادائیگی کی ضمانت دی ہے ، اگلے اجلاس میں سیکرٹری خزانہ کو طلب کر لیا گیا۔
گوادر میں پینے کے پانی کے پلانٹ کی بندش پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بہت بڑا سکینڈل ہے نیب کو معاملہ جانا چاہے تھا پلانٹ کو چلنا ناممکنات میں سے ہے۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ تھر میں 6 سو آر او پلانٹس لگائے گئے ہیں ،سندھ کی حکومت کے ذریعے بلوچستان حکومت گودار کیلئے 5 چھوٹے پلانٹس تحفہ میں دلواو ¿ں گا۔
اجلاس میں سینیٹرز تاج حیدر، اسلام الدین شیخ ، حافظ حمد اللہ ، روزی خان کاکٹر ، ثمینہ سعید، سیکرٹری ریلوے ، سیکرٹری ریلوے بورڈاور اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔
اے پی پی / سعیدہ ا ن م/وی این ایس، اسلام آباد