حکومت قیدیوں کی فلاح و بہبود اور انہیں دوران قید علاج و معالجہ ہنر سکھاکر رہائی کے بعد ایک کار آمد شہری بنانے کے لئے ضروری اقدامات یقینی بنائے گی، جیل حکام کو قیدیوں کے ساتھ مہربانہ رویہ روا رکھنے کا پابند کیا جائے گا،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو

0
223

کوئٹہ ۔19 جنوری( اے پی پی) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ حکومت قیدیوں کی فلاح و بہبود اور انہیں دوران قید علاج و معالجہ، صاف پانی اور بہتر خوارک کی فراہمی کے ساتھ ساتھ نوجوان قیدیوں کو مختلف ہنر سکھاکر رہائی کے بعد ایک کار آمد شہری بنانے کے لئے ضروری اقدامات یقینی بنائے گی۔ اس حوالے سے محکمہ جیل خانہ جات سے سفارشات طلب کر کے مطلوبہ فنڈز فراہم کئے جائیں گے۔ جیل حکام کو قیدیوں کے ساتھ مہربانہ رویہ روا رکھنے کا پابند کیا جائے گا اور کسی قیدی پر تشدد یا اس سے زیادتی ہر گز برداشت نہیں کی جائے گی۔نوعمر قیدیوں اور جیل میں قید خواتین اور ان کے ساتھ موجود بچوں کو دوران قید بہتر ماحول کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ جمعہ کے روز ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ کے اچانک معائنہ کے موقع پر قیدیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی اور رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی بھی ان کے ہمراہ تھے جبکہ جیل حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جیلوں کو اصلاح خانہ بنانے سے نہ صرف جرائم میں کمی لائی جاسکتی ہے بلکہ قیدیوں کی اصلاح کرکے انہیں معاشرے کا کار آمد شہری بھی بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے جیلوں کو عقوبت خانہ بنادیا گیا ہے جس کے منفی اثرات برآمد ہورہے ہیں اور معمولی جرائم کی سزاءبھگتنے والے جیل حکام کے غلط رویے کے باعث عادی مجرم بن کر نکلتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اہم اس رجحان اور غلط روایت کا خاتمہ کرینگے اور جیلوں کی بہتری کے لئے ضروری اصلاحات لائی جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے اپنے دورے کے دوران قیدیوں سے ان کے مسائل دریافت کرتے ہوئے جیل حکام کو ان مسائل کے فوری حل کی ہدایت کی۔ انہوں نے قیدیوں پر زور دیا کہ وہ جیل قوانین پر عملدرآمد کرکے خود ایک اچھا شہری ثابت کریں جبکہ انہوں نے جیل حکام کو قیدیوں کے ساتھ مہذبانہ رویہ رکھنے اور تشدد سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے نوعمر بچوں اور خواتین وارڈوں کا معائنہ بھی کیا جبکہ انہوں نے لنگر میں قیدیوں کو دی جانے والی خوراک اور سی سی ٹی وی کنٹرول کا جائزہ بھی لیا۔ وزیر اعلیٰ نے جیل وارڈ کے معائنہ کے دوران قیدیوں کو علاج ومعالجہ کی بہترین سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت کی۔ بعدازاں وزیر اعلیٰ نے صدر پولیس سٹیشن کا بھی اچانک معائنہ کیا ور حوالات میں بندقیدیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان سے پولیس کے رویہ کے بارے میں دریافت کیا۔ وزیر اعلیٰ نے تھانے کے روزنامچہ کا معائنہ بھی کیا ور ایس ایچ او سے حوالاتیوں کے کوائف اور ان پر لگے الزام کے تفصیلات سے آگاہی حاصل کی۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر انتباہ کیا کہ وہ شہر کے تمام تھانوں کا اچانک دورہ کر کے حوالاتیوں سے ملاقات کرینگے اور اگر کسی تھانے میں کسی بھی شہری کو ناجائز طور پرحوالات میں رکھے پایا گیا تو اس تھانہ انچارچ کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیس کاکام لوگوں کی حفاظت اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی کرنا ہے پولیس تمام شہریوں کے ساتھ یکساں رویہ رکھے اور کسی بھی دباﺅ کو خاطر میںنہ لائے۔ انہوں نے کہا کہ عام تاثر یہی ہے کہ پولیس بااثر لوگوں کے دباﺅ میں آکر بے قصور لوگوں کو تنک کرتی ہے تاہم اس رجحان کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تھانہ انچارج فریقین کے درمیان تصفیحہ کے لئے ثالث کا کردار ادا کریں تو چھوٹے موٹے جھگڑوں کو قانونی کاروائی کے بغیر نمٹایا جاسکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر ایک قرض دار حوالاتی کے ذمہ واجب الادا 20ہزار روپے اپنی ذاتی جیب سے ادا کرکے فریقین میں تصفیحہ کرادیا۔ (محمد بلال اعوان اے پی پی کوئٹہ)