سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمی تغیرات کا اجلاس

0
212

اسلام آباد, جنوری 8 (اے پی پی) : سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمی تغیرات کا اجلاس پیر کو چیئرمین کمیٹی سینیٹر میر محمد یوسف بادینی کی صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہو ا۔ اجلاس میں ملک میں جنگلات کے فروغ ، زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے کے حوالے سے وزارت کی طرف سے اٹھائے گئے انتظامات کے علاوہ گرین کلائمیٹ فنڈکا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت کی وجہ سے ذیلی کمیٹی کی رپورٹ برائے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ترمیمی بل 2017 کو آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا۔ ملک میں جنگلات کے فروغ کے حوالے سے آئی جی جنگلات ناصر محمود نے ذیلی کمیٹی کو بتایا کہ جنگلا ت کے فروغ کے حوالے سے تعاون کیا جارہا ہے یہ صوبائی معاملہ ہے ہم سہولت کار کے طور پر کام کررہے ہیں۔ قومی جنگلات پالیسی کی وفاقی حکومت نے منظوری دے دی ہے جس کے تحت جنگلات کے کٹاو¿ کو روکنا ، مزید درخت لگانا وغیرہ شامل ہیں۔ ایک سال کے دوران ملک میں 75 ملین درخت لگائے گئے۔ گرین پاکستان پروگرام کے تحت 3.6 ارب روپے سے پانچ سالہ منصوبہ تیا رکر لیا گیا ہے جس میں سو ملین درخت اگلے پانچ سالوں میں لگائے جائیں گے۔ پروگرام میں سٹرکوں اور نہروں کے کنارے درخت لگانا ، موجودہ مینگرو کے جنگلات کو فروغ دینا وغیرہ شامل ہیں۔ گزشتہ چھ سالوں کے دوران 707 ملین درخت لگائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات جنگلی حیات کی زندگی کی ضمانت ہیں۔ جنگلی حیات کی بقا کی کوئی پالیسی اب تک نہیں بنائی گئی اب بنائی جارہی ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جہاں پودے لگائے گئے ہیں ان کی ویڈیو مانیٹرنگ بھی کی جائے۔ این ایچ اے نے کروڑوں روپے کی مد سے سٹرکوں کے اطراف جنگلات لگائے تھے جو نظر نہیں آئے۔ مانیٹرنگ سسٹم کو بہتر کریں اور صوبوں کے ساتھ ملکر جنگلات کے فروغ کیلئے موثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔
کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں صوبوں کے نمائندگان کو بلا کر معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ درخت کی واضح تعریف نہیں تھی اب تین میٹر اونچی والے پودے کو درخت شمار کیا جائے گا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 1992 میں پاکستان میں جنگلات کی تعداد جانچی کی گئی تھی جس کے مطابق پاکستان کے کل رقبے کا پانچ فیصد جنگلات پر مشتمل ہے، ڈرون کے ذریعے درختوں کے شمار پر اربوں روپے خرچ ہونگے۔
کمیٹی نے زیر زمین پانے کے معیار اور گرتی ہوئی سطح پر تشویش کااظہار کیا۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ متعلقہ ادارے پانی کی زیر زمین سطح کو بلند کرنے اور شفاف پانی کے حوالے سے اقدامات اٹھائیں۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ضلع قصور کے پانی میں آرسینک زدہ پانی کی زیادہ مقدار پائی گئی جو نظام انہضام کو خراب کرتا ہے۔ وزات موسمی تغیرات کا کام پالیسی بنانے تک محدود ہے، باقی کام صوبوں کا ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح نیچے جانے کی کئی وجوہات ہیں۔ بلوچستان میں پانی کی سطح کافی حد تک نیچے گئی ہے جس پر رکن کمیٹی سینیٹر سیف علی خان نے کہا کہ ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال دیتے ہیں عوام کو شفاف پانی کی فراہمی اور ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کیلئے اقدامات نہیں کرتے۔قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ادارے اپنا طریقہ کار اختیار کریں۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدات کے وقت صوبوں کو ساتھ رکھیں اور صوبوں میں ہونے والے منصوبوں کیلئے فنڈز بھی بروقت فراہم کیا جائے۔ جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبوں کے حوالے سے جو فنڈز آتے ہیں وہ صوبوں کو بھیج دیے جاتے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سموگ کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ ملکر پالیسی بنا لی گئی ہے اور پاکستان دنیا کے دس آلودگی والے ممالک کی صف میں شامل ہو چکا ہے۔
کمیٹی کو گرین کلائمیٹ فنڈ کی تفصیلات سے بھی تفصیلی آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 100 ارب ڈ الرکا فنڈ قائم کیا گیا ہے، اس کا ایک بورڈ ہے جو 24 ممبران پر مشتمل ہے جو 2020 تک ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے اور انسان دوست بنانے کیلئے 100 ارب ڈالر خرچ کرے گا، یہ کم ترقی یافتہ ممالک چھوٹے جزیروں اورافریقی ممالک کیلئے ہے۔پاکستان نے ایک منصوبہ حاصل کیا ہے جس کے تحت 10.1 ارب ڈالر مل چکے ہیں۔ پانچ سال کا منصوبہ ہے، گلگت بلتستان کے10 اور خیبر پختونخواہ کے 5 اضلاع میں یہ فنڈ خرچ کیے جائیں گے، منصوبے صوبوں کے ساتھ ملکر بنائے جارہے ہیں جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے ہدایت کی کہ موثر حکمت عملی کے تحت بہتر منصوبہ جات تیا ر کر کے ملک میں جنگلات کو فروغ دیا جائے اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کیا جائے۔گرین کلائمیٹ فنڈ کی پراگرس بارے کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔
اجلاس میں سینیٹرز محمد علی سیف ، نزہت صادق ، گل بشریٰ ، سلیم ضیا، احمد حسن اور مشاہد حسین سید کے علاوہ سیکرٹری موسمی تغیرات ، آئی جی جنگلات اور دیگر حکام نے شرکت کی۔
اے پی پی / سہیل ا ن م/وی این ایس، اسلام آباد