قصور میں معصوم زینب کے اغواءاور قتل کے مقدمہ میں این سی ایچ آر فریق بنے گا؛ جسٹس (ر) علی نواز چوہان

0
172

اسلام آباد، 22 جنوری (اے پی پی) : قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر)کے چیئرمین جسٹس (ر) علی نواز چوہان نے کہا ہے کہ قصور میں معصوم زینب کے اغواءاور قتل کے مقدمہ میں این سی ایچ آر فریق بنے گا۔
پیر کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس (ر) علی نواز چوہان نے کہا کہ کمیشن نے ایک تحقیقاتی وفد قصور بھجوایا جس نے ضلع قصور میں بچوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے متعلق حقائق کی چھان بین کرکے ایک رپورٹ مرتب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ پولیس کی غفلت کا نتیجہ ہے اور معاشرہ سے ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے پہلے پولیس کا احتساب ضروری ہے۔ انہوں نے ایسے تشدد کے واقعات سے بچوں کو محفوظ بنانے کیلئے طریقہ کار وضع کرنے پر زور دیا اور کہا کہ صوبائی کمیشن برائے وقار نسواں بھی ایسے گھناﺅنے جرائم کے اصل مجرموں کو بے نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔
چیئرمین نے کہا کہ ہر بچے کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی، رابطہ کرنے پر بیورو کے لوگوں نے کہا کہ ان کی ذمہ داری سٹریٹ چائلڈ تک محدود ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے اخراجات ریاست کو برداشت کرنے چاہئیں جبکہ ثبوت اکٹھے کرنے کی ذمہ داری بھی تحقیقاتی ادارے کی بنتی ہے لیکن یہ بات شرمناک ہے کہ متاثرہ خاندان سے کہا گیا کہ وہ اس کی رقم ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تحقیقات کے مطابق پولیس نے زینب کے خاندان سے نعش کی برآمدگی کیلئے 10 ہزار روپے طلب کئے۔ انہوں نے اس بات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات انتہائی شرمناک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم کو معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ 6 ماہ کے دوران اسی ضلع سے 12 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ انہوں نے ان تمام واقعات کی تحقیقات کے حوالہ سے پولیس کے احتساب کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہماری ٹیم نے اس سے پہلے کی واقعات کی تفصیلات طلب کیں تو انتہائی حیرانی ہوئی کہ ان واقعات کا کوئی ڈی این اے ٹیسٹ نہیں ملا۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والے پولیس کے شعبوں کے درمیان رابطہ کا بھی فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کراچی میں نقیب ا? کے قتل اور اپنے حق کیلئے قصور میں مظاہرہ کرنے والے دو افراد کے قتل کے واقعات کی بھی مذمت کرتا ہے۔
اے پی پی / سحر ا ن م/وی این ایس، اسلام آباد