چترال کے علاقے بیر بولک میں واپڈا کے ٹھیکدار نے تباہی مچادی۔ ٹرانسمیشن لائن کیلئے بنجر زمین کو چھوڑ کرزرعی اراضی اورہزاروں درخت کو کاٹ کر لائن لے جارہے ہیں۔ متاثرین کا معاوضے کا مطالبہ۔

0
307

 

چترال،  جنوری 19(اے پی پی): گولین گول پن بجلی گھر سے مین ٹرانسمیشن لائن لے جانے کیلئے واپڈا کا ٹھیکدار (نیٹرو کام) چترال

کے مختلف علاقوں میں جنگلات کی کٹائی میں مصروف ہے۔ بروز کے بعد اب واپڈا کے ٹھیکدار بیر بولک کے مقام پر ہزاروں درخت کاٹ رہے ہیں۔ متاثرین نے اس کے خلاف بار بار آواز اٹھائی مگر ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

متاثرین کی درخواست پر ہمارے نمائندے نے متاثرہ جگہ کا دورہ کیا تو وہاں ہزاروں کٹے درخت زمین پر گرائے گئے ہیں۔ ان متاثرین میں سرورالملک،  عنایت الملک،  خسرو الملک،  فیاض الملک،  اکبر الملک،  داﺅد الملک،  امیر الملک،  تنویر املک،  اعجاز الملک،  فضل خالق  اور فدا محمد خان شامل ہیں۔

ان متاثرین کا کہنا ہے کہ واپڈا کے ٹھیکدار نے صرف پیسہ بچانے کیلئے بنجر زمین اور پہاڑی علاقے چھوڑ کر ہمارے زرعی زمین اور جنگلات میں سے بجلی کی  ٹرانسمیشن لائن گزاررہے ہیں جس کیلئے اب تک ہزاروں تناور درخت کاٹے گئے ہیں۔ ان درختوں میں نہایت نایاب قسم کے درخت جسے شاہ بلوط بھی شامل ہے جن کی بڑھوتری نہایت سست رفتاری سے ہوتی ہے اور اس کی عمر دس ہزار سال تک بڑھ جاتی ہے۔ ان کے علاوہ قومی درخت دیار،  اخروٹ،  خوبانی،  ناشپاتی،  املوک،  شاہ توت  اور  دیگر میوہ دار درختوں کو بھی کاٹا گیا اور ان کو معاوضہ بھی نہیں دیا گیا۔

اس سلسلے میں انسپکٹر جنرل فارسٹ سید محمود ناصر سے بھی فون پر بات ہوئی جنہوں نے ان درختوں کی اس طرح بے دریغ کٹائی پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے اسے ماحولیات کیلئے حطرناک قرار دیا۔ جس پر ڈویژنل فارسٹ آفیسر چترال نے بھی رابطہ کیا ۔

گولین گول کے پراجیکٹ ڈائریکٹر جاوید آفریدی سے جب پوچھا گیا کہ واپڈا کا ٹھیکدار ہزاروں کی تعداد میں درختو ں کو کاٹ رہے ہیں اور ان کو معاوضہ بھی نہیں دیتا جبکہ واپڈا رولز میں زرعی زمین اور جنگلات کو بچانے کا ذکر ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ہم فارسٹ رولز کے مطابق ان درختو ں کی ادائیگی کرتے ہیں جو ڈپٹی کمشنر چترال کے اکاﺅنٹ کے ذریعے ان متاثرین میں یہ رقم تقسیم ہوتی ہے تاہم امیر الملک اور دیگر متاثرین نے اس کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ا ن کو ابھی تک ان درختو ں کے عوض کوئی ادائیگی نہیں ہوئی صرف بجلی کے ٹاور کے نیچے جو زمین آتی ہے اس کے تھوڑے بہت پیسے دئے گئے ہیں جو بہت کم ہیں مگر واپڈا والے ایک ٹاور سے دوسرے ٹاور تک جو بجلی کےتار بچھاتےہے ان کے نیچے بھی درختوں کو کاٹ رہے ہیں اوراس کی ادائیگی نہیں کرتے۔ان کا کہنا ہے کہ پتہ نہیں یہ پیسے کہاں جاتے ہیں۔ ہمیں تو کچھ بھی نہی ملتا اس سلسلے میں بھی تحقیقات ہونی چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف صوبائی حکومت اربو ں کی تعداد میں درخت لگانے کا دعویٰ کرتی ہے تو دوسری طرف واپڈا و الے خطے میں کامیاب جنگل کو کاٹ کر تباہ کررہے ہیں جن میں کئی سال پرانے درخت بھی موجود ہیں اور قانون کے مطابق جس درخت کا عمر ستر 70 سال ہوجائے وہ قومی اثاثہ تصور ہوتا ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کے سابق سب ڈویژنل آفیسر عنایت الملک کا کہنا ہے کہ یہ درخت اور جنگل پرندوں کا مسکن تھا جہاں بہت نایاب پرندے رہتے تھے اور ان کی چہچہاٹ سے طبیعت سازگار ہوتی ۔ ان میں تیتروغیرہ انڈے دیتے  تھے مگر اب ان کا مسکن بھی ختم ہوگیاہے۔

ڈویژنل فارسٹ آفیسر چترال شوکت فیاض کا کہنا ہے کہ محکمے کی کوشش ہےکہ زیادہ سے زیادہ پودے لگاکر جنگلات کو بڑھائے کیونکہ جنگلات کی کٹائی سے نہ صرف ماحول پر بُرے اور منفی اثرات پڑتے ہیں بلکہ سیلاب کی صورت میں یہ تباہی کا باعث بھی بنتا ہے۔

ان متاثرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم پاکستان ، وفاقی وزیر پانی و بجلی ، چئیرمین واپڈا سے اپیل کی ہے کہ ان کی زرعی زمین اور جنگل میں ہزاروں کی تعداد میں جو درخت کاٹے گئے ہیں ان کے عوض ان کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق معاوضہ دیا جائے کیونکہ یہ نہایت پسماندہ لوگ ہیں اور یہ جنگل اور زمین ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ تھا جسے واپڈا والوں نے کاٹ کر ختم کیا۔

اے پی پی /گل حماد فاروقی/فرح

وی این ایس چترال