تمباکو سیکٹر سے اکھٹے ہونے والے ٹیکس میں کمی کے اسباب کے حوالے سے ایوان بالاء کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس

41

 

 

اسلام آباد (06 نومبر2018 )ء: تمباکو سیکٹر سے اکھٹے ہونے والے ٹیکس میں کمی کے اسباب جاننے کے حوالے سے ایوان بالاء کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس کنونیئر کمیٹی سینیٹر کلثوم پروین کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں ایف بی آر ، پاکستان ٹوبیکو بورڈ اور ملٹی نیشنل کمپنیوں سے ٹیکس میں کمی کی تفصیلات اور تمباکو پیدا کرنے والے گروورز کے مسائل کے بارے بریفنگ حاصل کی گئی۔
رکن کمیٹی سینیٹر محمد اعظم خان سواتی نے کہا کہ ایف بی آر میں ٹیکس وصولی کا جو سسٹم گزشتہ حکومت نے اختیار کیا تھا اور جو ابھی اپنایا ہے ان دونوں کو میں مسترد کرتا ہوں اس سے قومی خزانے میں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے اعلیٰ حکام کے کچھ رشتے دار ملٹی نیشنل کمپنی میں لاکھوں روپے پر معمور ہیں جو اپنا اثررسوخ استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر افسران ملٹی نیشنل کمپنیوں کی لگژری گاڑیاں اور دیگر تحائف بھی استعمال کرتے ہیں۔ جس پر چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر کلثوم پروین نے ایف بی آر سے تحریری طور پر تمام کمپنیوں میں کام کرنے والے ایف بی آر افسران کے رشتے داروں کی تفصیلات طلب کر لیں۔ انہوں نے کہا ایف بی آر آئندہ اجلاس میں تمباکوسیکٹر سے ٹیکس میں کمی کی وجوہات کے بارے میں بھی کمیٹی کو تفصیلی آگاہ کرے اور کمیٹی کو تھرڈٹیئر کے بارے میں جو بریف کیا گیا تھا وہ بھی قابل اطمینان نہیں تھا۔ سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ مقامی تمباکو کی پیداوار اور صنعت پر اضافی ٹیکس لگائے گئے ہیں اب فی کلو تمباکو پر 300روپے کا ٹیکس لگایا گیا ہے اور امپورٹ پر صرف گیارہ فیصد ڈیوٹی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایک کلو تمباکو سے1022سگریٹ بنتے ہیں اور ایک کلوتمباکو پر 300روپے ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ مفادات کے تضاد کا نقطہ بار بار اٹھایا گیا ہے اس کی پہلے وضاحت حاصل کی جائے تمباکو مافیہ بہت سرگرم ہے۔ ایف بی آر کمیٹی کو آگاہ کرے کہ ٹیکس وصولی کے حوالے سے جو ترامیم کی گئیں تھیں اور نئے سلیب متعارف کرائے گئے اس سے کتنا فائدہ ہوا۔
ایف بی آر حکام نے کہا کہ 2016-17میں تمباکو کے شعبے سے ٹیکس 111 ارب روپے سے کم ہو کر 74 ارب روپے وصول ہوئے جس کی بنیادی وجہ نان کسٹم پیڈ سگریٹ کی بھر مار ہے ۔ خصوصی کمیٹی کو بتایا گیا کہ آزاد کشمیر، فاٹا اور دیگر علاقوں میں نان کسٹم پیڈ سگریٹس تیار ہورہے ہیں اورروک تھام کیلئے اقدامات شروع کر دیئے گئے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ آزاد جموں کشمیر سے دو روٹس پر چیک پوسٹ قائم کی جا رہی ہیں اور 2016-17میں تمباکو سیکٹر سے 74ارب روپے اکٹھے کئے گئے اور جون 2017میں ٹیکس سٹرکچر میں تبدیلی کی گئی جس سے اضافی 14ارب روپے قومی خزانے میں ٹیکس کی مد میں جمع ہوئے۔ تھرڈٹیئر کے آنے سے 19فیصد آمدن میں اضافہ ہوا۔ کمیٹی کو یقین دہانی کرائی گئی کہ تھرڈٹیئر لانے کا فائدہ جلد سامنے آئے گا اور جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ان کی بدولت اگلے سال ٹیکس وصولی 120ارب تک پہنچ جائے گی۔ خصوصی کمیٹی نے چیف کمیشنر پشاور امیر بادشاہ کو ملٹی نیشنل کمپنی کی طرف سے دی گئی لگژری گاڑیوں کے حوالے سے آئندہ اجلاس میں وضاحت کے لئے طلب کر لیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملٹی نیشنل کمپنی سے انہیں دیگر مراعات بھی مل رہی ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نمائندے نے کمیٹی کو بتایا کہ غیرقانونی سمگلنگ کو کنٹرول کرنے سے بھی ٹیکس وصولی میں بہتری آئے گی۔ سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ آزاد کشمیر سے ہونے والی سمگلنگ کو روکا جائے اور ان کی حکومت سے معاملہ اٹھایا جائے۔ سینیٹر کلثوم پروین نے ایف بی آر سے سگریٹ کے حوالے سے سمگلنگ کی مقدار کی تفصیلات طلب کر لیں۔ پناہ این جی او کے نمائندے نے کہا کہ ایف بی آر سگریٹ پروڈکشن اور سیل کا ڈیٹا ماہوار ویب سائٹ پر ڈالے تو اچانک ہونے والی کمی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ایف بی آر حکام نے کہا کہ ٹیکس وصولی میں کمی کی بڑی وجہ برانڈڈ سگریٹ کی نسبت مقامی سگریٹ پر صارفین کا منتقل ہونا ہے۔
کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز محمد اعظم خان سواتی ، دلاور خان، ڈاکٹر اشوک کمار، شیری رحمان، ہدایت اللہ، مشاہد حسین سید، سردار محمد شفیق ترین کے علاوہ سیکرٹری صحت، چیئرمین ٹوبیکو بورڈ، ممبر ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

ریحانہ اے پی پی / سحر