تمباکو سیکٹر سے اکھٹے ہونے والے ٹیکس میں کمی کے اسباب جاننے کے حوالے سے ایوان بالاء کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس

63

پشاور، 28نومبر 2018(اے پی پی): تمباکو سیکٹر سے اکھٹے ہونے والے ٹیکس میں کمی کے اسباب جاننے کے حوالے سے ایوان بالاء کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس کنونیئر کمیٹی سینیٹر کلثوم پروین کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔
خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں ایف بی آر ، پاکستان ٹوبیکو بورڈ ،وزارت کامرس کے حکام نے خصوصی کمیٹی کو ٹیکس میں کمی کی تفصیلات بارے آگاہ کیا۔چیئرمین ایف بی آر نے خصوصی کمیٹی کو بتایا کہ 17۔2016میں تمباکو سیکٹر کے شعبے سے ٹیکس 111 ارب روپے سے کم ہو کر 74 ارب روپے وصول ہوئے جس کی بنیادی وجہ سگریٹ کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے سیلز ٹیکس کی کمی وصولی ہے ۔تھرڈ ٹیئر لگانے سے بہتری آرہی ہے ۔

2017-18 میں14 ارب اضافی ٹیکس وصول کیا گیا اور رواں مالی سال میں100 ارب سے زائد ٹیکس وصول کیاجائے گا جبکہ اگلے برس کا ہدف 120 ارب روپے ہے ۔ جس پر کنونیئر کمیٹی سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ ٹیکس وصولی میں یکدم 40 ارب کم وصول ہونا تشویش کی بات ہے کہیں ایسا تو نہیں کسی خاص طبقے کو رعایت دینے سے ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا ۔ خصوصی کمیٹی کوآئندہ اجلاس میں ٹیکس کمی کی وجوہات بارے تفصیلات سے آگاہ کیاجائے ۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ کم ٹیکس وصول ہونے والے برس میں آڈٹ کرایا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں ۔خصوصی کمیٹی نے ایک ماہ میں آڈٹ رپورٹ طلب کر لی ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تھرڈٹیئر لگانے سے سکینڈ ٹیئر والے تھرڈ پے منتقل ہو گئے انڈیا میں13 ٹیئرز ہیں ، بنگلہ دیش میں7 اور ملائیشیاء میں19 ٹیئرہیں ۔ سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ تمباکو ایکسپورٹ پر 300 روپے فی کلو ٹیکس لگانے سے پاکستان کے بہترین تمباکو پیدا کرنے والے علاقے مردان ، سوات اور صوابی میں کاروبار ختم ہو رہا ہے تمباکو ایمپورٹ پر فی کلو22 روپے ڈیوٹی ہے۔ جس پرکنونیئر کمیٹی نے ایمپورٹ ڈیوٹی بڑھانے اورایکسپورٹ پر ٹیکس کے میکنزم کا جائزہ لینے کی سفارش کر دی ۔ خصوصی کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف بی آر ملازمین کے رشتہ داروں کی تمباکو کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اداروں میں تعیناتیوں کی وجہ سے کم ٹیکس وصولی کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ٹیکس پالیسی مختلف اداروں بشمول وزارت خزانہ ، وزارت پلاننگ اور دیگر متعلقہ کی مشاورت سے تیار کی جاتی ہے کوئی انفرادی اس پر اپنا اثرو رسوخ استعمال نہیں کر سکتا ۔ کمیٹی کو ایف بی آر کے ملازمین کی تمباکو کمپنیوں میں تعینات رشتہ داروں کی تفصیلات تحریری طور پر فراہم کر دی جائیں گی ۔ خصوصی کمیٹی نے ایکسپورٹ میں بہتری کیلئے ترغیب  دینے اور مختلف ممالک میں کمرشل قونصلر تعینات کرنے کی سفارش کر دی ۔ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرزمشاہد حسین سید، دلاور خان ، سردار محمد شفیق ترین اور ڈاکٹر اشوک کمار کے علاوہ چیئرمین ایف بی آر، چیئرمین ٹوبیکو بورڈ ، سیکرٹری ٹوبیکو بورڈ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

سحر/رضوان

اے پی پی ،وی این ایس، اسلام آباد