پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس نے 5 برس میں 80 مشتاق طیارے بنا کر برآمد کئے:سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ

0
79

اسلام آباد، 16 جنوری (اے پی پی): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار  پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس کے حکام نے بتایا ہے کہ ادارے نے گزشتہ پانچ سال میں 80 مشتاق طیارے بنا کر مختلف ممالک کو برآمد کیا ہے جبکہ پی اے سی افرادی قوت سمیت دیگر ضروریات پوری کرنے کے معاملے میں خود کفیل ہوچکا ہے ۔

بدھ کے روز  سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار  نے چیئرمین کمیٹی سینیٹر لیفٹینٹ جنرل (ر) عبدالقیوم کی زیر صدارت پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس PAC کامرہ کا دورہ کیا   جس  کا مقصد پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس PAC سے متعلق زمینی حقائق کا جائزہ لینا تھا ۔ چیئرمین پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس PAC ایئر مارشل احمر شہزاد نے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی جس میں ادارے کے مختلف ادوار میں ہونے والی جدتوں(Innovations)، تکینکی کام کے طریقہ کار اور ایئر کرافٹ مینوفیکچرنگ کی مہارت ،ادار ے کے بجٹ اور اغراض ومقاصد شامل تھے ۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس میں مختلف ادوار میں بنائی گئی چار فیکٹریاں کام کر رہی ہیں جن میں ایئر کرافٹ ریبلڈ ، معراج ریبلڈ ، ایویانکس پروڈکشن اور ایئر کرافٹ مینو فیکچرنگ فیکٹری شامل ہیں اور یہ فیکٹریاں گزشتہ 4دہائیوں سے مرمت و بحالی کا کام سرانجام دے رہی ہیں ۔ ادارے کے کمرشل پراجیکٹس کے بارے میں کمیٹی ممبران کو بتایا کہ ادارہ ابتدا سے ہی پی اے ایف اور دوست ممالک کی مدد سے کم لاگت کے Engineering solutions مہیا کرنے کے نظریے پر کام کر رہا ہے اور دنیا میں معیار کے اصول ، مینو فیکچرنگ مہارت میں اپنا نام روشن کر چکا ہے ۔ ادارے نے گزشتہ 5 سالوں میں 80 مشاق طیارے بنا کر ایکسپورٹ کیے ہیں ، اور کچھ تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں ۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کا میانمار کو JF-17 طیارہ مہیا کرنے کیلئے کام جلد مکمل کر لیا جائے گا اور نائیجیریا کے ساتھ JF-17 طیارہ فروخت کرنے کے معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں ۔ علاوہ ازیں اسلام آباد انٹر نیشنل ائیر پورٹ پر طیاروں کی لائین  مینٹنیس  آپریشن کا آغاز25 جنوری2019 کو طے پایا گیا ہے ۔ ان مقاصدکے حصول سے پی اے سی کے انسانی اور دیگر وسائل کا زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کیا جا سکے گا۔

سینیٹر شاہین خالد بٹ نے سوال کیا کہ پرائیوٹ سیکٹر کو راغب کرنے کیلئے پی اے سی نے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں ۔سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے سوال کیا کہ کیا ادارہ اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے خود کفیل ہے اور کیا کبھی غیر ملکی انجینئرز کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ جس پر چیئرمین پی اے سی نے جواب دیا کہ کراچی اور لاہور چیمبر آف کامرس سے ہماری کئی بار بات چیت ہوئی اور ان کے ذریعے ملک کے بڑے بڑے سرمایہ کاروں سے رابطہ کیا گیا لیکن ہمیں خاطر خواہ جواب موصول نہیں ہوا لیکن ادارہ اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے مکمل طور پر خود کفیل ہے اور کبھی بھی غیر ملکی انجینئرز کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ۔

 

اے پی پی/حمزہ/طاہرمحموداعوان

وی این ایس اسلام آباد