سپریم کورٹ نے قتل کے الزام میں سزا کاٹنے والے دو مزید ملزمان کو بری کردیا

0
158

اسلام آباد  ،21 فروری (اے پی پی): سپریم کورٹ نے قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے دو ملزموں کو وقوعہ کے چھ سال بعد بری کردیا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے 16 مئی 2013 شیخو پورہ میں ہونے والے قتل سے متعلق کیس کی سماعت کی، سماعت کے بعد ملزمان صفدر عباس اور عمران افضل کو بری کردیا  گیا جبکہ تیسری ملزمہ مقتول محمد حبیب  کی بیوی کو لاہور ہائی کورٹ نے  پہلے ہی بری کرکے رہا کر دیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق قتل ناجائز تعلقات کا شاخسانہ تھا۔ملزم عمران افضل، مقتول محمد حبیب درزی کی دکان پر کام کرتا تھا۔عمران افضل کے مبینہ طور پر مقتول کی بیوی کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے اور  اس بات پر مقتول کا عمران افضل سے جھگڑا ہوا۔ایف آئی آر کے مطابق عمران افضل، صفدر عباس اور مقتول کی بیوی نے مل کر محمد حبیب کو قتل کیا۔ٹرائل عدالت نے صفدر عباس کو موت جبکہ عمران افضل اور مقتول کی بیوی کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جس کو بعد میں لاہور ہائیکورٹ نے   تبدیل کرکے صفدر عباس کی  سزا کو  عمر قید میں بدل دی اور عمران افضل کی اپیل مسترد جبکہ مقتول کی بیوی کو رہا کر دیا گیا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سماعت کے دوران کہا کہ جس خاتون کے گرد سارا کیس گھومتا ہے وہ بری ہو گئی۔ایف آئی آر اور پوسٹ مارٹم میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے   پوچھا  کہ سوا پانچ گھنٹے تک کسی نے پولیس کو کیوں نہیں بتایا اور سول ہسپتال شیخو پورہ کے پاس ریکارڈ کیوں نہیں تھا۔انہوں نے حیرانگی ظاہر کی کہ معلوم نہیں  کہ  مقتو ل کن حالات میں فوت ہوا اور کون لوگ اسے ہسپتال لے کر گئے ہوں گے۔  انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہسپتال لے کر گئے ان کے بیانات مشکوک ہیں،خون آلود آلہ قتل ساڑھے تین ماہ بعد ریکور ہوا  ۔ انہوں نے کہا کہ  21 دن کے بعد خون کی شناخت کرنا ممکن نہیں اور بتایا کہ  آزاد ہانہ ذرائع سے گواہوں کے بیان کی تصدیق نہیں ہوئی۔

عدالت نے شواہد اور تفتیش میں ربط کی عدم موجودگی کی بنیاد پر ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔

اے پی پی/ احسان/قرۃالعین

وی این ایس اسلام آباد