اسلام آباد ، 9 مئی (اے پی پی): وزیرِاعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے اپنے منشور کو عملی جامہ پہناتے ہوئے 8 ماہ کی قلیل مدت میں عوامی فلاح و بہبود اور اقتصادی ترقی کے حصول کےلئے کم و بیش 36 اہم منصوبوں کا آغاز کیا، غربت کے خاتمہ کےلئے ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ ”احساس“ کے عنوان سے ایک جامع اور مفصل پروگرام شروع کیا گیا ہے، اس پروگرام سے نہ صرف صحت، تعلیم، روزگار کی فراہمی اور معاشرے کے کمزور طبقوں کی ضروریات کے ضمن میں ریاست کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مدد ملے گی بلکہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے حکومتی وسائل کا منظم اور مربوط طریقے سے استعمال یقینی بنایا جا سکے گا۔
انہوں نے یہ بات جمعرات کو وزیرِاعظم آفس میں مختلف سرکاری محکموں کیجانب سے کارپوریٹ سوشل ریسپانسبیلیٹی کے حوالہ سے کئے جانے والے اقدامات کے حوالہ سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ ملک میں سیاحت کے مواقع کو اندرون ملک و عالمی سطح پر اجاگر کرانا، عوام الناس کو صحیح معنوں میں بااختیار بنانے کے لئے مقامی حکومتوں کا نظام، کلین اینڈ گرین پاکستان منصوبہ، ملکی معیشت کی بہتری اور کاروباری طبقوں کے سہولت کے لئے اقدامات، 50 لاکھ گھروں کی تعمیر، زراعت کے شعبہ میں جدت و ٹیکنالوجی کا فروغ اور انصاف کی فراہمی کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات حکومت کے اہم منصوبوں میں سرفہرست ہیں۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ ملک بھر میں پناہ گاہوں کے قیام کا منصوبہ اس بات کا مظہر ہے کہ کمزور اور نادار طبقوں کی فلاح و بہبود کے لئے حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا مکمل احساس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کی جانب سے شروع کئے جانے والے فلاحی منصوبوں کے بارے میں عوام کو مکمل آگاہی فراہم کرکے ان منصوبوں میں ان کی شرکت یقینی بنائی جائے تاکہ یہ منصوبے کامیابی کی منازل طے کر سکیں۔
اس موقع پر مختلف سرکاری کمپنیوں کے سربراہان نے وزیرِاعظم کو کارپوریٹ سوشل ریسپانسبیلیٹی کے ضمن میں اٹھائے جانے والے اقدامات سے وزیرِاعظم کو آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح سے متعلق مختلف اہم منصوبوں اور اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ زرعی ترقیاتی بینک کے صدر نے وزیرِاعظم کو بتایا کیا کہ زرعی ترقیاتی بینک کی جانب سے کسانوں اور خصوصاً چھوٹے کسانوں کو بلاسود قرضے فراہم کرنے کے لئے ای کریڈٹ کے نام سے منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت پنجاب میں کسانوں کو اب تک 11 ارب روپے قرضہ فراہم کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آزادکشمیر کی حکومت کے تعاون سے آزاد کشمیر میں بھی اس منصوبے کو شروع کر دیا گیا ہے جبکہ بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومتوں سے اس سلسلہ میں بات چیت جاری ہے۔
صدر زرعی ترقیاتی بینک نے بتایا کہ بینک کو ڈیجیٹل کرنے اور کسانوں کو اے ٹی ایم کی سہولت فراہم کرنے پر بھی کام جاری ہے۔
خیبر بینک کی جانب سے وزیرِاعظم کو بتایا گیا کہ بینک انضمام شدہ قبائلی علاقوں میں روزگار کی فراہمی پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ طالب علموں کو سکالرشپ کی فراہمی اور خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے منصوبوں پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ بنک آف خیبر انضمام شدہ قبائلی علاقوں کے نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کے لئے آسان قرض فراہم کرنے پربھی خصوصی توجہ دے رہا ہے اور اس ضمن میں پچاس ہزار سے دس لاکھ تک کے قرضے فراہم کئے جا رہے ہیں تاکہ با صلاحیت نوجوانوں کو اپنا روزگار قائم کرنے میں مدد ملے۔
وزیرِ اعظم نے مختلف کمپنیوں کی جانب سے سوشل ریسپانسیبیلیٹی کی مد میں اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہا۔
اجلاس میں معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، یوسف بیگ مرزا، افتخار درانی، ترجمان ندیم افضل چن، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، سیکرٹری خزانہ محمد یونس ڈھاگہ، سیکرٹری اطلاعات شفقت جلیل، چیئرمین نادرا، صدر نیشنل بینک، صدر زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ، ایگزیکیٹو وائس پریذیڈنٹ بینک آف پنجاب، سی ای او بینک آف خیبر، سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کمپنیوں کے منیجنگ ڈائریکٹر اور ایم ڈی پی ایس او سمیت دیگر افراد و صوبائی وزیرِ سیاحت خیبرپختونخوا محمد عاطف بھی اجلاس میں موجود تھے۔
سورس:وی این ایس ، اسلام آباد











