کم ترقی یافتہ اور پسماندہ علاقوں کی ترقی حکومت کی اولنی ترجح ہے، معاشی ترقی کلئے ضروری ہے کہ علم پر مبنی معشتا کوفروغ دیا جائے:وزیرِ اعظم عمران خان

241

اسلام آباد ، 10 مئی (اے پی پی):وزیرِ اعظم عمران خان نے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت منصوبوں کی تکمیل اورفعالیت کے ہر پہلو پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم ترقی یافتہ اور پسماندہ علاقوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے، معاشی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ علم پر مبنی معیشت کوفروغ دیا جائے، زرعی شعبے کی صلاحیت کو بھرپور انداز میں بروئے کار لانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی اور جدت کو متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام برائے مالی سال 2019-20ءکے بارے میں اعلیٰ سطح کے بریفنگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ جس میں وزیرِ منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، سیکرٹری خزانہ یونس ڈاگھا، سیکرٹری منصوبہ بندی ظفر حسن و دیگر حکام شریک تھے۔

وزیرِ منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار نے وزیرِ اعظم کو آئندہ مالی سال کے لئے مختلف شعبوں میں شروع کیے جانے والے نئے منصوبوں اورپبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے بریفنگ دی۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ حکومت کے وژن کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران علم پر مبنی معیشت کے فروغ، زراعت، توانائی کے شعبے اور ملک کے کم ترقی یافتہ علاقوں خصوصاً بلوچستان، جنوبی پنجاب، انضمام شدہ قبائلی علاقہ جات جیسے پس ماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کم ترقی یافتہ اور پسماندہ علاقوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی ترقی کا عمل اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک پسماندہ علاقوں کو ملک کے دیگر علاقوں کے برابر نہ لایا جائے۔ وزیراعظم نے کراچی کے لئے صوبائی اور مقامی حکومت کی مشاورت سے مربوط منصوبہ پر کام کرنے کی ہدایت کی۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ معاشی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ علم پر مبنی معیشت کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ زرعی شعبے میں ملکی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لئے بھی ضروری ہے کہ اس شعبے میں جدت اور جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرایا جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ماضی میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت مختلف منصوبے شروع کر دیئے جاتے تھے تاہم ان کی تکمیل اور فعالیت پر توجہ نہیں دی جاتی تھی جس کے نتیجے میں نہ صرف ان منصوبوں کی لاگت میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آتا تھا بلکہ کثیر وسائل خرچ کرنے کے باوجود بھی اکثر منصوبوں سے عوام کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچتا تھا۔

انہوں نے وزیرِ منصوبہ بندی کو ہدایت کی کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت شروع کیے جانے والے ہرمنصوبے کی تکمیل اور فعالیت کے پہلو پر خصوصی توجہ دی جائے۔

سورس:وی این ایس، اسلام آباد