بجٹ میں ہماری ترجیح عوام کی فلاح و بہبود ہے : خسرو بختیار

0
57

اسلام آباد، جون 23 ( اے پی پی): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی اور اصلاحات خسرو بختیار نے کہا ہے کہ ہماری حکومت کو ورثے میں تاریخ کا بلند ترین کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ورثے میں ملا لیکن ہم اس کو 20 ارب سے ساڑھے بارہ ارب پر لے آئے جو ایک بڑی کامیابی ہے۔

قومی اسمبلی میں بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بجٹ ملک کی پالیسی اور ترجیحات طے کرتا ہے اور اس بجٹ میں ہماری ترجیح عوام کی فلاح و بہبود ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ یہ آخری بار  ہو کہ حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جائے۔ اس حکومت نے مشکل حالات میں  آئی ایم ایف سے مذاکرات کیے اور بہترین انداز میں بات چیت کو آگے بڑھایا اور اب ہماری ترجیح ہے کہ اس کے بعد کبھی بھی پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے۔

خسرو بختیار نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں نے قرضوں میں بے حد اضافہ کیا لیکن وہ سب پیسے کہاں گئے کچھ نظر نہیں آئے۔ دوبارہ یہ ملک ویسی پالیسیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔جی ڈی پی گروتھ صرف کوانٹیٹیٹو نہیں بلکہ کوالیٹیٹو  ہونی چاہیئے اور ہماری ترجیح کوالٹی گروتھ ہے ۔

انھوں نے  کہا کہ عمران خان اور ان کی حکومت نے ملک کی معیشت کی بحالی اور ملک کے تحفظ کی قسم کھا رکھی ہے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ٹیکس سسٹم کی بہتری اور ٹیکس بیس میں اضافے کے بغیر کوئی معیشت ترقی نہیں کر سکتی اس لیے ہم نے ٹیکس کے حصول کا جو ٹارگٹ رکھا ہے اس کے بعد صوبوں کو ان کے موجودہ شئیر سے کہیں زیادہ حصہ ملے گا جس سے ملک ترقی کرے گا۔

خسرو بختیار نے کہا  کہ ایک لاکھ رجسٹرڈ کمپنیوں میں سے صرف پچاس ہزار ٹیکس دیتی ہیں اسی طرح باقی شعبوں میں بھی ٹیکس ا کھٹا کرنے کا  تناسب  انتہائی کم ہے اور پاکستان اتنے کم ٹیکس کلیکشن کے ساتھ ترقی نہیں کر سکتا۔موجودہ حکومت گزشتہ تمام حکومتوں سے بہتر ترقی کر کے دکھائے گی اور یہ پائیدار ترقی ہو گی جس کے نتائج آنے والی نسلوں تک پہنچیں گے۔

 

سورس: وی این ایس، اسلام آباد