ریفریجریشن کا عالمی دن، ماحول پر منفی اثرات کو کم کرنے کیلئے سروسز اور مصنوعات کے معیار کی بہتری پر زور

0
57

لاہور،26 جون(اے پی پی):دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ریفریجریشن کا عالمی دن بھر پور طریقے سے منایا گیا ،اس موقع پر مختلف تقریبات میں مقررین نے ماحول پر منفی اثرات کو کم سے کم کرنے کیلئے سروسز اور مصنوعات کے معیار کی بہتری پر زور دیا اور کہا کہ ریفریجرینٹس کو اگر درست طریقے سے روزمرہ کے استعمال میں نہ لایا جائے تو یہ زندگی پر منفی اثرات بھی مرتب کرتے ہیں۔

ریفریجریشن کے عالمی دن کے موقع پر وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ایچ وی اے سی آر سوسائٹی کے تعاون سے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ایک مرکزی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں جوائنٹ سیکرٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی حماد شمیمی اور مختلف شعبوں سے تعاون رکھنے والے افراد نے شرکت کی،اس موقع پر ماہرین نے اپنی اپنی پریزنٹیشن میں ریفریجریشن اور ایئر کنڈیشننگ کی جدید دور میں اہمیت پر روشنی ڈالی جبکہ گزشتہ کئی سالوں سے آر اے سی سیکٹر میں تیزی سے ہونیوالی گروتھ کی وجہ سے ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی،

مقررین کا کہنا تھا کہ 15 سال قبل استعمال ہونیوالے ریفریجریٹرز کی نسبت آج استعمال ہونیوالے ریفریجریٹرز 60 فیصد کم بجلی استعمال کرتے ہیں، اس طرح چارملین ریفریجریٹڈ ٹرکس اور 600 ملین ریفریجریٹڈ ویئر ہاؤس ہر سال 400 ملین ٹن خوراک کو محفوظ بناتے ہیں، علاوہ ازیں دو بلین سے زائد ریفریجرٹرز اور فریزرز گلوبل انرجی کا چار فیصد استعمال کرتے ہیں جبکہ 2050ء تک  5.6 بلین ایئر کنڈیشنڈ کا استعمال انرجی سیکٹر میں ڈیمانڈ کو تین گنا کر دے گا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزارت موسمیاتی تبدیلی کے جوائنٹ سیکرٹری حماد شمیمی نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی ماحولیات کے تحفظ کیلئے بین الاقوامی برادری سے تعاون کر رہی ہے، اس سلسلہ میں پاکستان نے 1992ء میں مانٹریل پروٹوکول پر بھی دستخط کئے اور بطور ایک ذمہ دار ریاست پاکستان مانٹریل پروٹوکول پر عملدرآمد کیلئے اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اور زون تہہ اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے کردار ادا کر رہا ہے ۔

تقریب سے لاہور چیمبر کے نائب صدر فہیم الرحمن سہگل اور صدر پاکستان ایچ وی اے سی آر سوسائٹی اعظم اشرف و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

و ی این ایس، لاہور