ماڈل کورٹس : انصاف کی رفتار تیز کرنے میں حیرت انگیز حد تک کامیاب ہوئے ہیں، مانیٹرنگ رپورٹ

0
133

اسلام آباد،17 جون (اے پی پی): پاکستان میں ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹس کا تجربہ شاندار کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں بنائے گئے 116 ماڈل کورٹس نے صرف 48 دنوں میں قتل کے 2 ہزار2 سو36 اور منشیات سے متعلق 3 ہزار4 سو 11 مقدمات فیصلہ کرکے نمٹادئےے ہیں۔ اس طرح ماڈل کورٹس نے بہت کم وقت میں مجموعی طور پر 5 ہزار 6 سو11 مقدمات کے فیصلے کردئےے ہیں۔

پیر کو یہاں پاکستان جوڈیشل اکیڈمی میں ایک خبری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماڈل کورٹس کے مانیٹرنگ اور ایوالویشن سیل کے ڈائریکٹرجنرل سہیل ناصر نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماڈل کورٹس کے تجربہ سے حیران کن حد تک حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقدمات میں تاخیرصرف پاکستان کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری دنیا میں مقدمات کے فیصلہ ہونے میں تاخیر کی شکایات موجود ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ایسا صرف پاکستان میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ماڈل کورٹس کا تجربہ پنجاب سے شروع کیا گیا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنے تو اگلے ہی ہفتے انہوںنے ماڈل کورٹس کو پورے ملک میں وسعت دینے کے لئے بات کی۔

سہیل ناصر نے کہا کہ ماڈل کورٹس کے لئے کوئی نئی قانون سازی نہیں کی گئی۔ نیشنل جوڈیشل پلاننگ اینڈ ایمپلی منٹیشن کمیٹی کے اجلاس میں ماڈل کورٹس کے ایکشن ڈاکیومنٹ کا جائزہ لیا گیا اور اس سلسلے میں کسی قانون سازی کی بجائے ریاستی عناصر کو متحرک کرنے کی پالیسی بنائی گئی۔ اس پالیسی کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماڈل کورٹس میں شفاف مقدمہ کا حق ہر صورت محفوظ رکھا جاتاہے۔ فریقین کی رضامندی سے تاریخ مقرر ہوتی ہے اور پھر مسلسل سماعت کے ذریعے پیش رفت کی جاتی ہے۔ انہوں نے ماڈل کورٹس کے تجربہ کو ہر لحاظ سے کامیاب اور شاندار قرار دیا۔

وی این ایس اسلام آباد