سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے  آبی وسائل کا اجلاس، میرانی ڈیم کے متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی پر غور

0
141

اسلام آباد، 03جولائی (اے پی پی ):سینٹ کی قائمہ کمیٹی آبی وسائل کا اجلاس چیئرمین سینٹر شمیم آفریدی کی زیر صدارت منعقد ہوا،اجلاس میں میرانی ڈیم کے متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی پر غور کیا  گیا،سینٹر میر کبیر شاہی نے متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی کامعاملہ اٹھایا ،انھوں نے کہا کہ اس اہم اجلاس میں شرکت کیلئے بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری منصوبہ بندی اور سیکریٹری آبپاشی نے شرکت نہیں کی ۔

محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بلوچستان سیکریٹری عملدرآمد سید ظفر بخاری نے کہا کہ میرانی ڈیم متاثرین کو عدم ادائیگی کا معاملہ ایک دھائی پرانا معاملہ ہے گزشتہ دس سال میں کئی مرتبہ متاثرین کی فہرست مرتب ہوئی جن میں لوگوں کے نام شامل ہو گئے یا نکال دئیے گئے ،معاملہ کو حل کرنے کیلئے سیکریٹری سطح کی نئی کمیٹی بنائی گئی ہے ۔

سیکریٹری عملدرآمد نے کہا کہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ متاثرین کو ادائیگی 2006 میں بنائے گئے اصل پی سی ون کے تحت اراضی مکانات درختوں اور افراد کو کی جائے گی ،حقدار کو اس کا حق دلوائیں گے ۔

سینٹر محمد اکرم نے کہا کہ علاقے میں ڈیم بننے سے کاریز ختم ہو گئے لوگوں کا روزگار ختم ہو گیا  ہے،لوگوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے لوگوں کو فورا  امداد فراہم کی جائے ۔

سیکریٹری عملدرآمد نے کہا کہ وفاقی حکومت نے متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی کیلئے ایک ارب پچاس کروڑ روپے میں سے 93 کروڑ روپے فراہم کر دیئے  ہیں ۔

چیئرمین کمیٹی شمیم آفریدی نے کہا کہ اس رقم کو فوری طور پر متاثرین میں تقسیم کیا جائے ،ان کا اصل کلیم کتنا بنتا ہے اس کا بعد ہی  تعین ہو جائے گا ،گزشتہ 17 برس میں کتنے سینٹر آئے اور چلے گئے متاثرین کو معاوضہ نہ ملا ،ہمارا کام ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر امداد فراہم کی جائے ۔

سیکریٹری عملدرآمد نے کہا کہ متاثرین کو مجموعی طور پر تین ارب روپے کا معاوضہ ادا کیا جانا ہے ،وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت نے آدھا آدھا ادا کرنا تھا ۔

سینٹر میر کبیر شاہی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اپنے حصے کا زیادہ شیئر دے دیا تاہم صوبائی حکومت نے کچھ نہیں دیا ، سینٹر گیان چند نے کہا کہ سندھ کے ساحلی علاقے سمندر برد ہو رہے ہیں ،قومیں چند فٹ زمین پر جنگیں لڑتی ہیں یہاں لاکھوں ایکٹر زمین سمندر کھا گیا مگر کسی کو فکر نہیں ،ٹھٹھہ اور بدین ڈوب جائیں گے سمندر حیدرآباد تک پہنچ جائے گا ،بلوچستان کے ساحلی علاقوں کو بھی اس طرح کی صورتحال ہے ۔

سینٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ سمندر کی زرعی اراضی پر پیش رفت روکنے کیلئے سٹڈی اور سروے کروایا جائےاور فوری اقدامات لیئے جائیں ، سیکریٹری آبی وسائل محمد اشرف نے کہا کہ  ساحلی علاقوں کا معاملہ صوبائی حکومت کا ایشو ہے ۔

اے پی پی /سحر/حامد